Friday, 16 March 2018

یہ تشدد کی راہ کیوں ؟

" یہ تشدد کی راہ کیوں ؟ "
اللہ سبحانہ تعالی کے ہر حکم سے فرار کی راہ تلاش کرتے کرتے ، ہم اس مقام پر پہنچ گئے ہیں ۔ کہ ہمیں زندہ رہنے کی کوئی بھی پرسکون اور پرامن راہ نظر ہی نہیں آرہی ۔ ملک کی اشرافیہ پر غم و غصے کا لاوا ایک عرصے سے کھول رہا تھا ۔ ایک غریب کا جینا دوبھر ہوگیا ، دو سیکنڈ میں غریب کی لے دے کردینا ، اشرافیہ اپنی شان سمجھنے لگی ۔ ایک ہی طرح کے گوشت پوست کے لوگ ، الگ الگ ہو کر بیٹھنے لگے ، الگ الگ ہو کر سوچنے لگے ۔ طاقتور نے کمزور کو اپنی رکھیل بنا لیا ۔ ایک زمیندار اپنے ہاری کو غلام سے بھی بدتر سمجھنے لگا ۔ یہاں تک تو برداشت کی حد تھی ۔
غریب کیسا بھی ہو ، ایمان کی حد تک ہمیشہ با کردار اور مضبوط ہوتا ہے ۔  اسی  ایمان کی طاقت پر وہ زندہ رہتا ہے ۔ ایمان اسکی امید اور ڈھارس ہوتا ہے ۔ اشرافیہ نے اسکے ایمان کو چھیڑ دیا ۔ اسکے تصور کا تیا پانچا کرنا شروع کر دیا ۔ یہ وہ موڑ ہے ، جس نے تشدد کی راہ کھول دی ۔ سیاسی قائدین کی عزت کا بھرم ریزہ ریزہ ہو گیا ۔ غریب کے ذہن میں پوری طرح بیٹھ گیا کہ یہ لوگ بد ترین مخلوق ہیں ۔ اب یہ جوتے اچھالنا ، چہروں کو کالا کرنا ، تھپڑ مارنا ایک رد عمل ہے ۔ ان احساسات کا جو غریب سینے میں دبائے بیٹھا تھا ۔ اللہ کی عظمت اور رسول اللہ کی محبت سے جڑے لوگ ، ان لیڈروں میں چھپی شیطنت کو پہچاننے لگے ہیں ۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں نہ موت کا خوف باقی رہتا ہے اور نہ کسی مصیبت سے ڈر لگتا ہے ۔
حل یہ نہیں کہ ایسے لوگوں کو دبانے کی کوشش کی جائے ۔ دھونس اور زور آوری کا تاثر قائم رکھا جائے ۔ یہ بھی اچھی طرح سمجھ لینا چاہئیے کہ اللہ کیطرف سے ذلت ملنا شروع ہو گئی ہے ۔ حل یہ ہے کہ جس رب کائنات نے اقتدار دیا تھا ، اسکی رضا کے مطابق عمل شروع کر دیا جائے ۔ توبہ کا دروازہ کھلا ہے ، اسطرف لوٹ جائیں ۔ وگرنہ ذلت تو فرعون کی لاش پر دیکھی جاسکتی ہے ۔ ان چھوٹے چھوٹے سیاستدانوں  کو کبھی نہیں بھولنا چاہئیے کہ ایمان کے فدائیوں کا قہر بہت سخت ہوتا ہے ۔ جس کے پیچھے لگ جائیں انہیں کوئی پناہ گاہ نہیں ملتی ۔ ایمان سے مت کھیلیں ۔ سیاست قواعد و ضوابط کے مطابق کریں ۔ ابھی اللہ کی پکڑ کا آغاز ہے ، انجام بہت بھیانک ہوتا ہے ۔
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment