" کونسا زوال باقی ہے "
کیا اللہ سبحانہ تعالی نے اپنی بلیغ و عظیم کتاب میں بالکل واضع الفاظ میں باور نہیں کرایا ، کہ ان کفار کو اپنا دوست مت بنانا ۔ ان پر اعتماد مت کرنا ۔ کیا اللہ نے نہیں فرمایا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے اسکے فریب میں مت آنا ۔ کیا یہ حکم نہیں ہوا کہ اپنے رب کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنا اور گروہ در گروہ تقسیم مت ہو جانا ۔ کیا اللہ نے واضع نظام ہمارے سامنے نہیں رکھا ۔ کیا اللہ نے اپنے پیارے حبیبؐ کی زندگی کا نمونہ ہمارے سامنے نہیں رکھا کہ ہم نے کیسے جینا ہے ۔
جب سب فلاح کے راستے ہم پر واضع کر دئیے گئے تھے ، پھر ہم نے انحراف کیا ۔ سرکشی کی ۔ اللہ کو بھول گئے ۔ اللہ سبحانہ تعالی نے کھول کھول کر بتا دیا کہ یہ دنیا کی زندگی عارضی ہے ۔ یہاں ہم سب مسافر ہیں ۔ پھر ہم نے یہاں پر مستقل قیام کی تیاریاں شروع کر دیں ۔ سمجھتے رہے ہم نے ترقی کی بے پناہ منزلیں طے کر لی ہیں ، ایک انگلی کے اشارے پہ جہاں چاہیں ، منزل کو اپنے میز پہ کھینچ لاتے ہیں ۔ ہم نے فاصلے سمٹ ڈالے ۔ گویا ہماری ایک انگلی کی طاقت کا حساب لگانا ، قرین قیاس نہیں رہا ۔ ہم اپنے آپ کو فائدے ہی فائدے میں دیکھتے ہیں ۔ مگر اللہ سبحانہ تعالی فرماتا ہے ۔
" بے شک انسان خسارے میں ہے "
ہم نے زوال کی اتھاہ گہرائیوں کو چھو لیا ۔ دنیا کو جہنم میں بدل ڈالا ، اپنے بس کی آگ دوسروں پر برسانا شروع کردی ۔ اپنا اپنا سکون ، دوسروں کا سکون برباد کرنے میں کھو دیا ۔ مخمل کے بستر نوکدار پتھروں کی طرح چبھتے ہیں ، سکون کی نیند کا ایک پل میسر نہیں رہا ۔
ہم زوال کی اس اندھی وادی میں ہیں ، کہ جہاں شیطان کا غلبہ ہے ۔ جن کو دوست بنا لیا تھا ، وہ ہماری جان کے درپے ہیں ۔ ہمیں یہی دوست بھیڑ بکریوں کیطرح ذبح کر رہے ہیں ۔
یہ اللہ کی بات نہ ماننے کی پاداش ہے ۔ بھائی نے بھائی کی گردن پر خنجر رکھ دیا ہے ۔
کیا یہ ابن آدم کا عروج ہے یا زوال ؟ کیا امت مسلمہ اب عروج پر رہ گئی یا زوال کی کھائی میں گر گئی ؟
آپ بھی سوچیں ، میں بھی سوچتا ہوں ۔
آزاد ھاشمی
Thursday, 1 March 2018
کونسا زوال باقی ہے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment