" انگریز کے نمک خور "
عام طور پر ایک سوال ذہن میں آتا ہے کہ آخر مسلمانوں ہی میں غدار کیوں پیدا ہوتے ہیں ؟ دوسری قوموں اور مذاہب کے لوگ اس بیماری میں شاذ ہی مبتلا ہوتے ہیں ۔ پھر یہ بیماری بر صغیر میں عام ہے اور پاکستان میں خاص ۔ آخر کیوں ۔
باشعور لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ جب برصغیر میں انگریز آیا تو اس نے ایسے لوگ تلاش کئے ، جن کا ضمیر مردہ ہو ۔ جن کو دم ہلانے کا ہنر آتا ہو اور جو آسانی سے خریدے جائیں ۔ ایسے لوگوں کو بڑے بڑے اعزاز دئیے گئے اور بڑی بڑی جاگیروں سے نوازا ۔ یہی وہ پودا تھا جو بارآور ہوتا رہا ، آج بھی اسی نسل کے لوگ موجود ہیں ۔ انگریز بہت شاطر قوم ہے ، انہوں نے کتے پالے اور کتا اپنے مالک کی وفاداری کا بھرم رکھتا ہے ۔ آج بھی یہی لوگ ، ملک کی سالمیت پر انگریز کے نمک کو ترجیح دیتے ہیں ۔ وطن اور قوم پر انگریز کو مقدم رکھتے ہیں ۔
اب حد یہ ہوگئی ہے کہ ان دم ہلانے والے انسانی شکل میں کتوں نے مذہب پر بھونکنا شروع کر دیا یے ۔ امریکہ اور دوسرے یورپ ممالک میں بیٹھے یہ لوگ اسلام پر ، قران پر ، نماز پر ، روزے پر ، حج پر ، پردے پر اور دیگر اسلامی شعار پر نئی نئی اختراعات گھڑ رہے ہیں ۔ یہ اپنے آقا کی نمک حلالی کا پورا پورا حق ادا کر رہے ہیں ۔ بڑے بڑے جید شیوخ بھی انکی گود میں بیٹھنے لگے ہیں ۔ انکی اصلاح کا چوغہ پہن کر ، یہ بھولے بیٹھے ہیں کہ اپنے دیس میں سود نظام معیشت بن چکا ہے ۔ اسلام کے متبادل ، جمہوریت کو رائج کر دیا گیا ہے ۔ نبیوں کو سیاستدان کہا جانے لگا ہے ۔ یہ انگریز کے نمک خوار اصل ننگ قوم و وطن ہیں ۔ باشعور لوگوں کو ان کے طلسم سے آزادی حاصل کرنے کی سعی کرنا ہو گی ۔ ہماری ضرورت دنیا کی چکا چوند نہیں ، چودہ سو سال پہلے والی ہدایت ہے ۔ ہمیں ایمان کا حق ادا کرنا ہو گا ۔
آزاد ھاشمی
Thursday, 1 March 2018
انگریز کے نمک خوار
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment