" جمہوری تماشا "
بہت سارے زیرک احباب ، درج ذیل شعر کو جمہوریت کی تقویت کیلئے استعمال کرتے ہیں ۔ کہ جمہوریت دین کے ساتھ لازم ہے ۔
"جلالِ پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی "
جمہوریت کو اس میں نظام نہیں بلکہ " جمہوری تماشا " کا نام دیا گیا ہے ۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ یہ ایک تماشا ہے ، جسے جمہور سجاتی ہے ، جمہور لطف اٹھاتی اور جمہور ہی سزا بھگت رہی ہوتی ہے ۔
بادشاہت بھی تکبر ، رعونت ، جبر اور بے لگامی ہے ۔ ان دونوں کو اگر دین کی حدود و قیود سے آزاد کر دیا جائے تو ظالمانہ طرز حکومت بن جاتا ہے ۔ دین ، حدود و قیود اور قواعد و ضوابط کا نام ہے ۔ جو اللہ کیطرف سے طے کئے جاتے ہیں ۔ اللہ کیطرف سے نافذ کئے جاتے ہیں ، جن میں کسی ترویج و تنسیخ کی گنجائش ہی نہیں ہوتی ۔ دین ، کسی قوم کو اپنی مرضی کے دستور اور قانون کی اجازت نہیں دیتا ، ایک طے شدہ طریقے کے مطابق چلاتا ہے ۔ مگر ہم نے شعر کا مطلب اپنی ضرورت کے مطابق جوڑ رکھا ہے ، کہ دین اور سیاست کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ دانشوروں نے اسکا ایک مطلب یہ نکال لیا ہے کہ اگر دین اور سیاست کو الگ الگ کر دیا جائے تو بربریت باقی بچتی ہے ۔ سیاست تماشا ہے اور دین حقیقت ۔ دین امن اور سلامتی ہے ، سیاست منافقت اور طاقت کے حصول کی کوشش ۔
آزاد ھاشمی
Thursday, 1 March 2018
جمہوری تماشا
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment