" عاصمہ جہانگیر کا جنازہ "
اللہ سبحانہ تعالی درگذر اور معاف کرنے کو پسند فرماتا ہے ۔ عاصمہ نے زندگی کیسے گذاری ، کتنے حقوق العباد میں کارنامے کئے ، جمہوریت کیلئے کیا قربانی دی ، اور اسلام سے ظاہری اور باطنی کیا تعلق رہا ۔ سب اللہ جانے اور عاصمہ جانے ۔
اس سارے واقعہ سے اسلام کے اصول و ضوابط پر جو بحث چھڑ گئی ہے ۔ وہ سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے ۔
اسوہ حسنہ کے مطابق اللہ کے حبیب ؐ جب عبداللہ بن ابی کا جنازہ پڑھانے لگے پھر قرآن کی اس آیت کے مطابق جو سورہ توبہ آیت ٨٤ ہے ، جنازہ نہیں پڑھایا - اللہ اپنے نبیؐ سے فرماتا ہے کہ ان کیلئے اگر ستر بار بھی استغفار کروگے تو اللہ انکو نہیں بخشے گا کیونکہ انہوں نے اللہ اور رسول سے کفر کیا ۔ ایسے لوگوں سے ناراضگی کی انتہا ہے کہ اللہ فرماتا ہے کہ ایسے لوگوں کی نماز جنازہ بھی مت پڑھنا اور انکی قبر پر کھڑے بھی مت ہونا ۔ کیونکہ یہ کفر اور نافرمانی کی حالت میں مرے ہیں ۔ سوال ہے کہ کیا مرحومہ اس حد تک نافرمان تھی ؟ کہ اللہ کا یہ حکم لاگو ہو جاتا ہے ۔
اسلام ہر برائی کو اسکی جڑ سے اکھاڑنے کی تعلیم دیتا ہے ۔ اگر ایسے لوگ جو ہر وقت اللہ اور رسول سے مخاصمت میں رہتے ہیں ، انکی پہچان الگ نہ کی جائے ، برائی قائم رہے گی ۔ اب جنازہ ہو چکا ۔ اسلام کی تعلیمات کے منافی ہو چکا ۔ اسکے حق میں دلائل سے اللہ کے حکم کی نفی ہے ۔ علماء کو چاہئیے کہ آئیندہ کیلئے قوم کو قرآن کے مطابق شعور دیں ۔ تاکہ کسی اختلاف کی گنجائش باقی نہ رہے ۔ حقوق العباد میں انتہا کر دینے والے کو قطعی جائیز نہیں کہ وہ اللہ اور رسول سے مخاصمت کرتا رہے ۔ حقوق اللہ سے انحراف بڑا جرم ہے ۔
آزاد ھاشمی
Sunday, 18 February 2018
عاصمہ جہانگیر کا جنازہ
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment