Sunday, 18 February 2018

اللہ کو راضی کریں

"اللہ کو راضی کریں "
میں نے اور آپ نے ، یعنی ہم سب نے ہر ممکن کوشش کی کہ ایسی زندگی تک پہنچ جائیں ، جہاں سکون ہو ، اطمینان ہو اور کوئی غم نہ ہو ، کوئی اندیشہ نہ ہو ۔  اس آرزو کیلئے جو پہلا میدان منتخب کیا جاتا ہے ، وہ مال و زر کا حصول ہے ۔ دنیا کی چکا چوند کو غلام بنانے کیلئے مال و زر لازم عنصر بن جاتا ہے ۔ جب مال و زر آسانی سے نہیں ملتا تو ہر اس آگ میں کود جاتے ہیں ، جو ہمارے ضمیر کو جلا ڈالتی ہے ۔ جب مال و زر مل جاتا ہے تو بے پناہ عزت اور توقیر کی بھاگ دوڑ شروع ہو جاتی ہے ۔ رعونت بڑھنے لگتی ہے ، ہر سر اپنے سامنے تعظیم کیلئے جھکتا دیکھنے کی تڑپ پیدا ہو جاتی ہے ۔ اسکے حصول کیلئے بھلے شیطان کیوں نہ بننا پڑے ۔ حرص ایسی بیماری ہے جو سب کچھ کے باوجود نہ سکون ملنے دیتی ہے اور نہ اطمینان قلب ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اس منزل پر پہنچ چکے ہیں ، جہاں سارا جہاں ہماری دسترس میں ہے ۔ ہر کوئی ہم سے خوش دکھائی دیتا ہے مگر کوئی ایک خوش نہیں ہوتا ۔ منافقت اور مطلب سے بھری مسکراہٹیں استقبال کرتی نظر آتی ہیں ۔ مگر سرگوشیاں توہین آمیز ہوتی ہیں ۔ گویا  ساری عمر  کی تگ و دو بےسود رہ جاتی ہے ۔
کیوں ؟ ایسا کیوں ہوتا ہے ؟
صرف اسلئیے کہ جس ذات کو راضی کرنا تھا ، جسکی رضا میں اطمینان قلب بھی تھا ، غیر فانی اور حقیقی عزت بھی تھی ، وقار بھی تھا ۔ اسے ہم نے راضی کرنے کا سوچا ہی نہیں ۔ کہ زندگی کے  زندگی اپنے آخری ہچکولے کھانے لگتی ہے ۔ تب بھی دنیا کی ہوس پیچھا نہیں چھوڑتی ۔ موت سے ڈر لگتا ہے کہ جس کے پاس جانا ہے ، اسکی تو کوئی بات نہیں مانی ، اسکے سامنے تو قبولیت والا کوئی سجدہ ہی نہیں کیا ۔ اسکا دیا ہوا رزق تو بانٹا ہی نہیں ۔ پھر حسرت ہوتی ہے ، کاش! اللہ کو راضی کر لیا ہوتا ۔
وہ بھی کتنا غفور ہے ، خشییت کے چند آنسو بہا دو ، توبہ کر لو ، بس وہ راضی ۔ زندگی کے چند باقی لمحوں کا سکون ، پوری عمر پر بھاری نظر آئے گا ۔ اسکو راضی کرنے کے چند لمحے مل گئے ہیں تو اس سے فائدہ نہ اٹھانا حماقت ہے ۔
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment