" بت پرستی "
اللہ سبحانہ تعالی نے اسلام کو عقل و دانش اور حقیقی روشنی کا دین بنایا ۔ بت پرستی جہالت تھی اور ابتدا سے جاری تھی ۔ اسکی جگہ روشنی اور ہدایت کی شمع جلانے کیلئے انبیاء کو آگ میں کودنا پڑا ، جانیں دینا پڑیں ، ہزار ہا سال کی جدوجہد کے بعد بالآخر انبیاء کے سردار حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا ۔ تا کہ اللہ کے گھر سے بتوں اور گمراہی کو دور کر کے ، پوری دنیا میں ہدایت اور روشنی پھیلا دی جائے ۔ جہالت کی سر زمین پر علم کی شمع جل اٹھی ۔ جہالت سکڑ کر ایک مخصوص خطہ کا دین بن گئی ۔ مسلمان قرآن اور اسوہ حسنہ کو مضبوطی سے تھامنے کی بجائے ، اپنی تحقیق میں ایسے لگے کہ مسالک سے اسلام کی اصل تعلیم کو پس پشت ڈال دیا ۔ سب نے اپنے اپنے راستے بنا لئے یا یوں کہہ لیں کہ سب نے اپنی اپنی سمتیں ، بتوں کی طرح متعین کر لیں ۔ لوگ اللہ کی مساجد کو اپنے مسالک کے نام پر تعمیر کرنے لگے ۔ قرآن کی تعلیم کی بجائے اپنے اپنے فلسفے ، فقہ ، اجتہاد اور تفاسیر پر توجہ مرکوز کر لی گئی ۔ اسوہ حسنہ کو چھوڑ کر اپنے اپنے امام بنا لئے ۔ پیروں کے قدموں پر سر ٹیکنے لگے ، مزاروں سے حاجات مانگنے لگے ، یہی وہ سوچ اور تعلیم ہے جس نے آج بھی ہمارے اندر کی بت پرستی کو ختم نہیں ہونے دیا ۔ پھر سے اپنے اپنے رخ غیر اللہ کی طرف موڑے بیٹھے ہیں ۔ کافروں کے سامنے دو زانو حکمران بت پرست ہیں ۔ علماء مسالک کی پٹی باندھے دین کی اصل تعلیم سے نا بلد ہو گئے ۔ دولت کی ہوس اور طاقت کا خوف ہمارے مذہبی رحجان پر غالب آگیا ۔ یہ بھی تو بت پرستی ہے ۔
حالت یہ ہوگئی ہے کہ گھروں ، جہاں قرآنی آیات آویزاں ہونا چاہئیے تھیں وہاں سیاسی لیڈروں کی تصویریں لٹک رہی ہیں ۔ یہی بت پرستی ہے ۔
آج مندر وہاں بن گئے جہاں سے مندر اکھاڑنے کی ابتداء ہوئی تھی ۔ آج پھر ہمارے اندر کا کفر با اعلان باہر نکل آیا ۔ ہم جو سر اللہ کے سامنے جھکانے پر فخر کرتے تھے اب بتوں کے سامنے جھکانے کی ذلت سے دوچار ہونگے ۔ شیطان کی فتح کو ہم اپنی صلح جوئی اور سیکولر سوچ کہیں گے ۔ اس ساری بد بختی کی وجہ کیا ہے ؟ نہ سوچیں گے اور نہ سمجھیں گے تاوقتیکہ رات کے اندھیرے میں یا دن کی روشنی میں کوئی آفت نہ آ پکڑے ۔
آزاد ھاشمی
Wednesday, 21 February 2018
بت پرستی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment