Wednesday, 21 February 2018

یہ دلدل ہے

" یہ دلدل ہے "
جن لوگوں کو اللہ سبحانہ تعالی نے شعور کی نعمت دے رکھی ہے ۔ وہ یقینی طور پر موجودہ مذہبی چپقلش ، مسالک کی جنگ ، سیاسی کھلاڑیوں کی بیہودہ اور لچر گفتگو ، سیاسی کارکنوں کی اخلاق باختگی ، میڈیا پر دولت کے پجاری دانشوروں کی بک بک اور ایک دوسرے کی کردار کشی سے  اس نتیجے پر پہنچ گئے ہونگے ، کہ یہ سارا کھلواڑ جو پاکستان کے ہر میدان میں جاری ہے ۔ عوام کیلئے ایسی دلدل ہے ۔ جو متعفن بھی ہے اور عقل کو شل کرنے کے ساتھ ساتھ ادھ موا کر رہی ہے ۔ پتہ ہی نہیں چل رہا کہ کون محب وطن ہے اور کون غدار ۔ عدالت سپریم ہے یا اسمبلی ۔ بد کردار ہونا کوئی عیب ہے یا نہیں ۔ عقل کے بغیر قانون بنانے والے کیا قانون بنائیں گے ۔ وردی پہن لینے کے بعد کیا حدود پھلانگنا جرم ہے ، وردی والوں کو پتہ ہی نہیں ۔ پبلک سے تنخواہ لینے والے ملازم پبلک کو غلاموں کیطرح سلوک کرتے ہیں ۔ کون روکے گا ، کسی کو بھی معلوم نہیں ۔ عجب تماشا ہے ۔ زبان اتنی غیر شائستہ ہو گئی ہے کہ کسی بھی شریف انسان کو گھن آتی ہے ۔
یہ کیسی دلدل ہے ، جس میں پوری قوم داخل ہوتی جارہی ہے ۔ بہتان ، تہمت ، گالی گلوچ کو روایت بنایا جا رہا ہے ۔
کیا ساری قوم اندھی ، گونگی اور بہری ہوگئی ہے ۔ سب دیکھتے ، سنتے انہی بد کردار ، بد زبان اور بد طینت لوگوں کو اپنی سربراہی دینے پر تلے بیٹھے ہیں ۔ آج پورے سیاسی میدان میں کوئی ایک ایسا سیاستدان ، مذہبی رہنماء نہیں ، جس کے کردار کو مثال بنایا جا سکے ۔ سب کے سب اسمبلیوں میں بیٹھے قوم کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ بھی رہے ہیں اور خدمت کا ڈھنڈورا بھی پیٹ رہے ہیں ۔ قوم کی بھلائی اسی میں ہے ، کہ ان سب کھلاڑیوں کو لڑنے دیں ، خود اس دلدل سے نکل کر " نظام مصطفے " کا مطالبہ کریں ۔ بس یہی وہ راہ باقی ہے ورنہ ڈوبنا مقدر ہو جائے گا ۔
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment