Sunday, 18 February 2018

اقبال شاہ کی قانون سازی

" اقبال شاہ کی قانون سازی "
سنا ہے حال ہی میں ایک شخص ، جسے قومی زبان تک بولنا نہیں آتی ۔ جسکا شوق مرغ لڑانا ہے ۔ پاکستان کی  "متبرک پارلیمنٹ " کا رکن منتخب ہو گیا ہے ۔ یہ جمہوریت کی روایت کا نیا کمال اور اچنبھا کمال نہیں ۔ ایسی بیشمار مثالیں موجود ہیں ۔ اس انتخاب میں جمہوریت کی بد ترین شکل سامنے آئی ہے ۔ ایک پارٹی نے قوم سے ایسا مذاق کیا ہے ، کہ جاہل ترین شخص کو قانون سازی کا منسب دلوا دیا ۔ دوسری پارٹی جو تبدیلی کا ڈھنڈورا پیٹتی ہے ، ایک بچے کو اس اہم ذمہ داری کیلئے منتخب کروانے پر تمام جتن کر دئیے ۔ پہلی شاباش تو ان دونوں پارٹیوں کو ملنی چاہئیے جو قوم کی بھلائی پر اسقدر مخلص نظر آتی ہیں ۔ دوسری شاباش ان تمام ووٹروں کو جن کو پتہ ہی نہیں کہ اپنی تقدیر کن لوگوں کے ہاتھ میں دینے پر تیار رہتے ہیں ۔ تیسری شاباش ان تمام دانشوروں کو جو اس مذاق کو جیت ہار کے ترازو پر تولتے ہیں ۔ یہ پوری قوم سے گھناونا مذاق ہے ۔ تماشا ہو رہا ہے تمہارے شعور کا ۔ ہوش کرنے کی ضرورت ہے ۔ لمحہ فکریہ ہے کہ اللہ کی پکڑ سخت سے سخت ہوتی جا رہی ہے ۔ جاہل ، لٹیرے اور دولت والے تمہارے سروں پر مسلط ہونے لگے ہیں ۔ ہوش کرو کہ اللہ کا قانون اور دستور چھوڑ رہے ہو ۔ اب تمہارا قانون " اقبال شاہ " بنایا کریں گے ۔ پتہ نہیں یہ دانشور کہاں مر گئے ہیں ۔ میڈیا پر سیاسی تجزئیے کرنے والے پارٹیوں کا موازنہ کر رہے ہیں ۔ قوم کی حواس باختگی کا ماتم کرنے کی ضرورت ہے ۔  ہار جیت گئی باڑھ میں ۔۔ یا حفیظ الامان ۔
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment