" جماعت کا نعرہ "
( راج اللہ کا
رواج محمد ؐ کا
نظام رب کا
احتساب سب کا )
دوست شکوہ کرتے ہیں کہ میں جماعت پر لا حاصل تنقید کرتا ہوں ۔ وجہ صرف یہ ہے کہ جماعت واحد امید ہے کہ اگر سیاست چھوڑ کر اپنے قول و فعل پر گامزن ہو جائے ، تو اسلام کے نظام کیطرف پیش قدمی آسان ہو جائے گی ۔ اب جو نعرہ لگایا جا رہا ہے ، یہ چاروں دعوے صرف انتخابات کیلئے ہیں اور چاروں دعوے جمہوریت کی نفی ہیں ۔ جو جماعت جمہوریت کے ساتھ چل رہی ہے ، وہ نہ تو اللہ کے راج سے مخلص ہے ، نہ محمد ؐ کے رواج سے ۔ اللہ کے راج میں قانون ، دستور ، آئین اور حدود طے شدہ ہیں ۔ معیشت زکواة پر ہے ، عشر پر ہے یا خمس پر ہے ۔ ٹیکس پر نہیں ۔ حدود اٹل ہیں ، کوئی پارلیمنٹ کی ضرورت نہیں ۔ رواج محمد ؐ میں کسی فرد کو اختیار نہیں کہ وہ کسی اقتدار کی اہلیت کا دعوی کرے اور اسکے لئے رائے عامہ ہموار کرے ۔ یہ اختیار صاحبان کردار شوری کا ہے کہ وہ اہلیت کا معیار طے کریں ۔ رواج محمدؐ میں ہر گناہ کبیرہ کے مرتکب ، جھوٹی گواہی کے مرتکب ، خائن اور بدکردار کی کوئی جگہ نہیں ۔ نظام رب کا بالکل واضع ہے پھر اس پر چلنے کیلئے سیاست کا سہارا کیوں لیا جائے ۔ وہ احتساب کیا کریں گے جو اپنا احتساب نہیں کرتے ۔ کیا وہ مراعات جو جماعت کے منتخب اراکین حاصل کر رہے ہیں ، جائز ہیں ؟ کسی طرح بھی نہیں ۔ پھر احتساب کون کرے گا ۔ فرشتے آئیں گے ؟
جماعت یہ نعرہ لگانے سے خائف کیوں ہے
" جمہوریت یا اسلام " پہلے یہ ریفرنڈم ہو جائے ۔ یہ تو واضع ہو جائے کہ قوم کہاں کھڑی ہے ۔ چھیاسٹھ فیصد لوگ ووٹ ہی نہیں ڈالتے ، جو جمہوریت سے علیحدگی کا واضع اعلان ہے ۔ سو میں سے گیارہ۔ووٹ لینے والا جیت جاتا ہے ۔ اسلام کے نام پر بننے والا ملک اسلامی شعار سے نابلد لوگوں کی حکمرانی میں گھسٹ رہا ہے ۔
اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو اصل منافقت ہی یہی ہے کہ نام اسلام کا لو اور آبیاری جمہوریت کی کرو ۔
میں جماعت کے سارے غازیوں سے معذرت چاہتا ہوں کہ انکا جہاد اسلام کیلئے ہونا چاہئیے ، جمہوریت کیلئے نہیں ۔
آزاد ھاشمی
Sunday, 18 February 2018
جماعت کا نعرہ
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment