Wednesday, 17 May 2017

علی ع اور حسن ع

امام اصفہانی رح نے حلیۃ الاولیاء میں
حضرت علی ابن ابی طالب(ع)
اور حضرت حسن بن علی (ع)
کا ایک دلچسپ اور معارف سے بھرپور مکالمہ ذکر کیا ہے،
اس میں حضرت علی ابن ابی طالب کے کچھ سوالات اور
حضرت حسن ابن علی کی جانب سے ان سوالات کے جواب دیئے گئے ہیں:

حضرت علی :
راہ راست کیا ہے؟
حضرت حسن :
برائی کو بھلائی کے ذریعہ دورکرنا ۔

حضرت علی :
شرافت کیا ہے؟
حضرت حسن :
خاندان کو جوڑ کر رکھنا اور ناپسندیدہ حالات کو برداشت کرنا ۔

حضرت علی :
سخاوت کیا ہے؟
حضرت حسن :
فراخی اورتنگ دستی دونوں حالتوں میں خرچ کرنا ۔

حضرت علی :
کمینگی کیا ہے؟
حضرت حسن :
مال کو بچانے کے لئے عزت گنوابیٹھنا ۔

حضرت علی :
بزدلی کیا ہے؟
حضرت حسن :
دوست کو بہادری دکھانا اوردشمن سے ڈرتے رہنا ۔

حضرت علی :
مالداری کیا ہے؟
حضرت حسن :
اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی رہنا،خواہ مال تھوڑا ہی کیوں نہ ہو ۔

حضرت علی :
بردباری کیا ہے؟
حضرت حسن :
غصے کو پی جانا اورنفس پر قابورکھنا ۔

حضرت علی :
بے وقوفی کیا ہے؟
حضرت حسن :
عزت دارلوگوں سے جھگڑا کرنا ۔

حضرت علی :
ذلت کیا ہے؟
حضرت حسن :
مصیبت کے وقت جزع فزع کرنا ۔

حضرت علی :
تکلیف دہ چیز کیاہے؟
حضرت حسن :
لایعنی اورفضول کلام میں مشغول ہونا ۔

حضرت علی :
بزرگی کیا ہے؟
حضرت حسن :
لوگوں کے جرمانے ادا کرنا اورجرم کو معاف کرنا ۔

حضرت علی :
سرداری کس چیز کا نام ہے؟
حضرت حسن :
اچھے کام کرنا اوربرے امور ترک کردینا ۔

حضرت علی :
نادانی کیا ہے؟
حضرت حسن :
کمینے لوگوں کی اتباع کرنا اورسرکش لوگوں سے محبت کرنا ۔

حضرت علی :
غفلت کیا ہے؟
حضرت حسن :
مسجد سے تعلق ختم کرلینا اوراہل فساد کی اطاعت کرنا ۔

حوالہ کتب !

حلیۃ الأولیاء:۲/۳۶،
المعجم الکبیر:۳/۶۸
التماس دعا:

No comments:

Post a Comment