Saturday, 16 June 2018

دباو پر سزائے موت

" دباو پر سزائے موت "
ایک خبر نظر سے گذری ہے ۔ خبر کی صداقت کا معیار کیا ہے ، اس پر کوئی رائے قائم نہیں کی جا سکتی ۔ خبر ہے
" ممتاز قادری کو پھانسی ، جنرل راحیل شریف کے دباو پر دی نواز شریف پھانسی کا مخالف تھا "
یہ خبر جسٹس کھوسہ کے توسط سے ہے ۔ 
اس خبر کے دو پہلو بہت اہم ہیں ایک یہ کہ عدالتی فیصلوں کے پیچھے جو لوگ عمل فرما ہوتے ہیں ، ان میں ایک وزیراعظم اور دوسرا فوج کا سپہ سالار ۔ دوسرا پہلو کہ عدالت کی کرسی پہ بیٹھا ہوا جج قانون کی تابعداری نہیں کرتا بلکہ اپنے ان حکمرانوں کے حکم کے تحت فیصلے کرتا ہے ۔ اسکا مطلب تو یہ ہوا کہ آج تک جتنے بھی سیاسی اہمیت کے فیصلے ہوتے آئے ہیں ، وہ قانون کے مطابق کبھی بھی نہیں ہوئے ۔ ایسے فیصلوں میں اگر کسی کو سزائے موت ہو جاتی ہے اور وہ پھانسی پہ جھول جاتا ہے تو یہ قتل کرنے میں تین لوگ شامل ہو سکتے ہیں ۔ یا کم از کم دو تو لازم ہونگے ۔
یہ بات کرنے والا بھی جسٹس ہے اور جس ڈھٹائی سے بات کر رہا ہے ، وہ کسی بھی مہذب معاشرے میں قابل تعزیر ہے ۔ ایسے انصاف پہ ، ایسے عدل پہ ، ایسے قانون پہ اور ایسے زور آور لوگوں پہ صد افسوس ہے ۔ ہماری بے حسی کی انتہا ہے کہ ہم کسی کے گلے میں پھندا ڈالتے ہوئے نہیں سوچتے کہ ایک روز ہم بھی بے بسی کے عالم میں قادر مطلق کی عدالت میں کھڑے ہونگے ۔  یہ کرسی ، یہ اقتدار اور کندھے پہ لگے ہوئے یہ عہدے تو حرافہ کیطرح ہیں ،  آج کسی کے پاس کل کسی دوسرے کے پاس ۔
اگر یہ بات سچ ہے کہ ممتاز قادری کو راحیل شریف کی ایماء پر پھانسی ہوئی تھی ۔ تو تمام سیاسی کیسز مشکوک ہو جاتے ہیں ۔ تمام فیصلے مشکوک ہو جاتے ہیں اور جو ملک کے اندر انتشار کی فضا ہے وہ اسی مثلث کی خود ساختہ ہونے میں کوئی شک باقی نہیں رہ جاتا ۔ اگر ایسا ہے تو ملکی سالمیت سے کھلواڑ میں سازش نظر آتی ہے ۔ کہاں ہے انکا حلف ، کہاں ہے انکا ایمان اور کہاں ہے انکی حب الوطنی ۔
اول تو جج صاحبان کو اس حلف کی پاسداری کرنی چاہئیے اور قوم کو اعتماد میں لینا چاہئیے تھا۔ تاکہ ایسے فیصلوں کے محرکات سامنے آئیں ۔
اگر جسٹس صاحب نے جھوٹ بولا ہے تو انکو اس پر گرفت ہونی چاہئیے کہ وہ قوم کو گمراہ کیوں کر رہے ہیں ۔ ایسی باتیں در گذر کرتے رہنے سے ملک کا نظام بگڑتا رہے گا ۔  انتقامی طور پر غداری کے عوامل متحرک ہوتے رہیں گے ۔ اور ملک کی سلامتی پر خطرات منڈلاتے رہیں گے ۔ اس کے ذمہ دار وہی ہونگے جنہوں نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہو گا ۔ خواہ وہ سیاستدان ہو ، سپہ سالار ہو ، جج ہو یا بیورو کریٹ ۔
آزاد ھاشمی
١٥ جون ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment