" جمہوریت کہاں ہے؟ "
دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار امریکہ کے صدر نے بیان دیا ہے کہ سابق صدر کلنٹن اور روسی ایجینسیوں کی ایماء پر ایف بی آئی نے مجھے ہرانے کی سازش کی ۔ یہ خبر روزنامہ ایکسپریس ١٥ جون کے شمارے میں صدر ٹرمپ کی ٹویٹ کے حوالے سے تحریر ہے ۔
جمہوریت کے پرستاروں کو اس خبر کے بعد یقین ہو جانا چاہئیے کہ پوری دنیا میں ووٹ کی اہمیت صرف اتنی ہے کہ ووٹرز سیاستدانوں کا کھیل دیکھتے رہیں ۔ حکمرانوں کا تغیر و تبدل ووٹ سے کہیں بھی نہیں ہوتا ، اس کھیل کے پیچھے کچھ اور ہاتھ ہوتے ہیں ۔ جو جمہوریت کے نام پر حکومتوں پر اپنی پسند کے لوگ لائے جاتے ہیں ۔ ان ہاتھوں کو پتہ ہوتا ہے کہ کب کالے رنگ کا صدر بہتر ہوگا اور کب نیم پاگل کو صدارت کی کرسی پہ بٹھانا ہے ۔ کب واٹر گیٹ سکینڈل کا کھیل کھیلنا ہے اور ایک صدر کو معزول کرنا ہت ۔ کب پانامہ لیک جیسا شوشہ چھوڑنا ہے اور کئی ملکوں کے سربراہان کو کرسی چھوڑنے پر مجبور کرنا ہے ۔
امریکہ کا صدر اس خیال کی پوری تائید کرتا ہے کہ امریکہ جیسے مہذب لوگوں سے روس کی ایجینسیاں کھلواڑ کرتی ہیں یا کر سکتی ہیں ۔ تو دنیا بھر کے دوسرے جمہوریت پسند کس باغ کی مولی ہیں ۔ کلنٹن امریکہ کا سابق صدر ، اپنی اہلیہ کیلئے ایف بی آئی کو استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ امریکی حکمرانی میں ایف بی آئی کا عمل دخل ضرور ہوتا ہو گا ۔
کوئی ایسا ملک باقی نہیں رہ جاتا جہاں جمہوریت کے نام پر سیاسی شطرنج نہ کھیلا جاتا ہو ۔ جس کھلاڑی کی چال بہتر ہوتی ہے وہ جیت جاتا ہے ۔ فرق صرف اتنا ہے پسماندہ ممالک میں کی جانے والی دھاندلی کو اچھال کر عدم استحکام پیدا کیا جاتا ہے ، تاکہ ترقی یافتہ ممالک اپنے مفادات حاصل کرتے رہیں ۔ وہ اپنے من پسند حکمرانوں کو کسی نہ کسی اقتدار تک لے آتے ہیں ۔ اس میں کون کون استعمال ہوتاہے ، اسکی تشریح کچھ اسطرح ہونے لگی ہے کہ آسمانی مخلوق تبدیلی لاتی ہے ووٹر نہیں ۔ جمہوریت کی ناکامی کیلئے کافی ہے کہ امریکہ کا صدر چیختا نظر آتا ہے کہ روس اسے صدر نہیں دیکھنا چاہتا تھا ، اور اسکا ساتھ ایف بی آئی کے سرکردہ لوگ دے رہے تھے ۔ انکی کی پشت پر امریکہ ہی کا سابق صدر تھا ۔
ہمارے دانشور اسی زعم میں دیوانے ہوئے جا رہے ہیں کہ جمہوریت بہترین طریقہ ہے جس سے درست انتخاب ممکن ہے ۔ دنیا بھر کے انتخابات میں آخری چند گھنٹے اہم ہوتے ہیں ۔ کسی کو کچھ علم نہیں ہوتا کہ کس صندوقڑی سے کیا نکل آئے ۔ چھ لاکھ ووٹ لینے والی پارٹی ہار جائے اور چاڑھے چار لاکھ لینے والی اکثریت سے جیت جائے ۔ امریکہ میں بھی اکاون فیصد ووٹ لینے والا آخری لمحوں میں تنتالیس فیصد پہ کیسے چلا جاتا ہے ، اس راز پر ابھی تک پردہ پڑا ہوا ہے ۔ یہی جمہوریت کی خوبی ہے کہ نہ کوئی سوچ سکتا ہے ، نہ کوئی پوچھ سکتا ہے اور نہ ہی کوئی بتاتا ہے ۔ ہم پاکستانی بھی اسی شفافیت کا شکار رہتے ہیں جبکہ ووٹر گھر پہ بیٹھا ہوتا ہے اور ووٹ پڑ جاتا ہے ۔ یہ جادو کسی کو کبھی سمجھ نہیں آیا ۔ اگر کسی جمہوریت پسند کو سمجھ آتا ہے تو قوم کو ضرور بتائے ۔
آزاد ھاشمی
١٧ جون ٢٠١٨
Sunday, 17 June 2018
جمہوریت کہاں ہے؟
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment