" شہادت کا تقدس "
ہر راسخ العقیدہ شخص کی آرزو ہوتی ہے کہ اسکی موت اللہ کی راہ میں آئے اور وہ اسکے سامنے سرخرو ہو کر پیش ہو ۔ شہادت کا منصب خاصان خاص کو عطا ہوتا ہے ، اسی کو ملتا ہے جس پر اللہ کا خاص کرم ہو ۔ یہ انعامات ربی میں سب سے بڑا انعام ہے ۔
کل ایک معصوم ، مداریوں کے میلے میں کچلا گیا ۔ اسکی معصومیت پر تو وہ اس انعام سے نوازا جا سکتا ہے ۔ یہ اللہ کی اپنی شان ہے ۔ مگر گمراہی کے ابلاغ والوں نے اسے جمہوریت کی شہادت سے منسوب کر ڈالا ۔ صرف شہید کہہ لیا جاتا تو الگ بات تھی ، اسے شہید جمہوریت کہہ کر نہ صرف اسکی موت سے مذاق کیا بلکہ اللہ کے نظام پر بھی طنز کر ڈالی ۔ جمہوریت ، کفر کا نظام جس سے اسلامی نظام کی راہ روکی جارہی ہے ۔ اسکے لئے جان دینے والا " شہید "
خدا را جمہوریت کے عشق میں ، اتنی سرکشی پر مت اترو کہ اللہ کی لاٹھی تمہیں عبرت کا نشان نہ بنا ڈالے ۔
وہ بیچارہ تو ایک تماشہ دیکھنے آیا ہو گا ، اسے تو خبر بھی نہیں ہو گی کہ جمہوریت کس بلا کا نام ہے ۔ اسے کونسے دشمن نے مارا ، کسی کی غفلت سے گاڑی نے کچل ڈالا ۔ ہاں یہ سچ ہے کہ وہ دنیا کے فرعونوں کے ہاتھوں مارا گیا ۔ اقتدار کی حرص والوں نے اسے کچل ڈالا ۔ اس پر اسے اللہ شہادت عطا فرما دے تو وہ کریم ہے ۔ مگر جمہوریت کی سربلندی کی آواز اٹھانے پر مارا جانے والا شہادت کے اعلیٰ رتبے کا مستحق نہیں ہوتا ۔ اللہ کےاحکامات کے مطابق شہادت کے درجات واضع ہیں ، انہیں یوں مسخ مت کرو ۔ کب تک جیو گے ، کب تک تکبر کو پالتے رہو گے ۔ ایک روز منوں مٹی کے اندر دبا دئیے جاوگے ۔ اس دن کو یاد کر لیا کرو ۔ اللہ کے قوانین کو اپنی اسمبلی کے قوانین مت سمجھو ، ابھی چھوٹے عذاب میں ہو ، کل کو یہی عذاب تمہاری برداشت سے باہر ہو جائے گا ۔ اقتدار کے بھوکوں کی جنگ کو آپس میں جاری رکھو ۔
ازاد ھاشمی
11 اگست 2017
Tuesday, 19 June 2018
شہادت کا تقدس
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment