" عید ہو گی جن کی ہوگی "
لوگ کہہ رہے ہیں کل عید ہے . پچھلے چونسٹھ سال عید آتی رہی ہے . مجھے یاد ہے . عید سے پہلے ایک آواز آیا کرتی تھی .
"تو سب کا سوچتا ہے اپنا کیوں نہیں سوچتا . یہ لے عیدی اور اپنے بھی کپڑے بنا ."
اگر وطن سے باہر ہوتا تو بھی فون کرنے سے پہلے پہلا آنے والا فون میری ماں کا ہوا کرتا . پوچھا کرتیں , کیا کھایا ہے , کیسے کپڑے پہنے ہیں , کیا کر رہا ہے .
اس سال پہلی بار ماں نہیں , پہلی بار عید نہیں . لوگ عید مبارک کے پیغام بھیج رہے ہیں , کیسے لکھوں " خیر مبارک " . کیسے بتاوں , اس سال سب کی عید ہو گی , میری نہیں .
سوچتا ہوں جن کی مائیں نہیں ہوتیں , انکی عید بھی نہیں ہوتی ہوگی . شاید ماں کا نام ہی عید ہوتا ہے . کاش ! میری سانس رکنے تک ماں نہ جاتیں . میں بھی سب کے ساتھ عید منا لیا کرتا .
ازاد ھاشمی
20 جون 2017
Tuesday, 19 June 2018
عید ہو گی جن کی ہوگی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment