Wednesday, 20 June 2018

ایسے نہیں کرو بھائی



ایسے نہیں کرو بھائی
" ایسے نہیں کرو بھائی - یہ بچیاں آپ کی بھی بچیاں ہیں , مجھ غریب بیوہ کا آپ لوگوں کے سوا کون ہے - الله اور رسول کا واسطہ ہے - میری یوں رسوائی نہ کرو "
سگے بھائی کے سامنے وہ گڑگڑا رہی تھی -
" میں کیا کروں , تم جانتی ہو معاشرہ میں میری کیا حثیت ہے - ہم سیاسی لوگوں کو رکھ رکھاؤ کرنا
پڑتا ہے - پانچ سات سو کی بارات کوئی زیادہ تو نہیں "
بھائی کی بات سن کر وہ آسمان کی طرف دیکھنے لگی -
" اگر ممکن نہیں تو اپنے جیسے رشتے تلاش کرو , میں اپنی ساکھ خراب نہیں کر سکتا - جہیز کا دکھاوھ نہیں کر سکتا , چپکے سے یہ گھر داماد کے نام کر دینا - اب میں چلتا ہوں "
بیچاری بت بنے , بیٹی کے خواب ٹوٹنے کا درد سمیٹ رہی تھی - سگا بھائی اس قدر گر سکتا ہے, اس نے خواب میں بھی نہیں دیکھا تھا - بیٹی ماں کے درد کو محسوس کر رہی تھی - کیا کہتی ماں سے - معاشرے کا خاموش ماتم کر رہی تھیں سب ماں اور بیٹیاں - اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی - وہ آنسو پونچھتے دروازے کی طرف لپکی , جیسے کسی مسیحا کی دستک ہو - سامنے وہ بھکاری کھڑا تھا , جو ہر ہفتے روٹی مانگنے آتا تھا -
" بہن ! ایک بات کہوں , مان لو گی "
" بولو "
" اپنے بھائی کو ہاں بول دو , اور ایک ہزار کی برات منگوا لو - میں کھانا دوں گا , جب بارات کھانا کھا لے , ڈولی روک لینا - بیٹی کا ہاتھ اسی ہزار میں سے اسکے ہاتھ میں دے دینا , جو اسے تین کپڑوں میں قبول کر لے - جرأت کر سکو تو بتاؤ "
وہ مسکرائی
" شکریہ بھائی - میں کہاں سے لاؤں گی اتنے لوگوں کا کھانا "
" میں جانتا ہوں تمہیں میری بات دیوانگی لگی ہو گی - مجھے ثابت کرنے کے لئے ایک ہفتہ انتظار کر لو "
" ٹھیک ہے " اس نے جان چھڑانے کے لئے ہاں کر دی اور پھر اپنے خوابوں کو جوڑنے میں لگ گئی -
آج وہ بھکاری پھر اسکے دروازے پہ کھڑا تھا , ہاتھ میں ایک پوٹلی لئے ہوۓ - آج مانگنے والے ہاتھ دینے کے لئے بیتاب تھے -
" میرا وعدہ میری بہن - اس میں اتنے پیسے ہیں جس سے ہزار آدمی اچھا کھانا کھا سکیں - مگر وہی کرنا جو یہ فقیر کہہ رہا ہے - بکنے والے رشتے کبھی بھی دوبارہ بک جائیں گے- بکنے والوں کو بیٹیوں کے لئے خریدنے کی کبھی کوشش مت کرنا "
" اتنے پیسے کہاں سے لئے " وہ حیرانی سے پوچھ رہی تھی -
" میں نے کاروبار کیا , دونوں گردے بیچ دئیے اور اپنی بہن , بیٹیوں کے لئے خوشیاں خرید لیں - ایک نکلوا آیا ہوں دوسرا مرنے پہ "
پھر وہ لمحہ بھی آیا , جب بارات کھانا کھا چکی اور بیوہ ماں نے اعلان کیا , کسی نہ بکنے والے داماد کا -
غیرت کبھی نہیں مرتی اپنے مقام بدلتی رہتی ہے - بارات کا وہ نوجوان حاضر تھا , جسے کوئی بھی شہزادی ہاتھ دے کر قسمت پہ ناز کرتی -
یہ نوجوان علاقے کا بڑا زمیندار اور تعلیمیافتہ ہے -
" ماں جی ! ہم تین بھائی ہیں , اگر آپ کو اطمینان ہو تو ہم یہ ذمہداری لینے کو تیار ھیں , اور تینوں کی ڈولی لے جاتے ہیں - آپ ہماری ماں ہیں "
وہ اپنے رب کا شکر ادا کرتے ہوۓ اس بھکاری کو ڈھونڈھ رہی تھی - جو ایک کونے میں بیٹھا خوشی کے آنسو روکنے کے جتن کر رہا تھا -
(آزاد ہاشمی )

No comments:

Post a Comment