" چیونٹی کی ٹانگ میں رسی "
ایک وقت تھا کی ہم بھی سیاسی دھما چوکڑی کا حصہ رہے ہیں ۔ اسوقت جب شاہ احمد نورانی ، مولانا عبدالستار خاں نیازی ، مفتی محمود اور بھٹو جیسے سیاستدان میدان میں تھے ۔ ہم بھی طالبعلم اور نوجوانوں کے دستوں کا حصہ ہوا کرتے ہے ۔ اسوقت کے سیاست ، اخلاقیات ، تدبر اور وقار ہوا کرتا تھا ۔ لیڈر اخلاق جانتے تھے ، اپنے ساتھ چلنے والوں کو اخلاق سکھاتے تھے ۔ سیاست میں بھی بازاری مزاج کے لوگوں کہ جگہ نہیں ہوتی تھی ۔ اسلئیے کہ وہ قائدین اسے اپنی توہین سمجھتے تھے کہ بازاری لوگ انکے ہم رکاب ہوں ۔
مگر اب جو سیاست ہے ، انتہائی شرمناک طرز سیاست ہے ۔ یا تو قائدین میں شرافت مفقود ہوگئی ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کی بیہودگی کو محسوس ہی نہیں کرتے ۔ یا ہمارا معاشرہ اسقدر غلیظ ہو گیا ہے کہ سیاست کے نام پر مخالفین کی چار دیواری میں جھانک جھانک کر کردار کشی شروع کر دی جاتی ہے ۔ بیٹی ، ماں اور بہن کو جو عزت دی جاتی تھی ، وہ ختم ہو گئی ہے ۔ شرم آتی ہے جب مخالفین کی بہن ، بیٹی اور ماں کے کردار سیاست کے ماہرین پبلک میں مشتہر کرتے ہیں ۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ عقل و شعور سے دیوالیہ کارکن ہر سیاستدان کی دم سے چپکے ہوئے ہیں ۔ جیسے ہی کوئی اصولی موقف انکے رہنما کے خلاف سامنے آتا ہے ۔ وہ اس پر لا یعنی اور مہمل قسم کے سوال جواب شروع کر دیتے ہیں ۔ ایسے لگتا ہے کہ چیونٹی کی ٹانگ میں رسہ ڈال دیا ہے ، اب اس گھماتے رہنا ہے ۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہتا ہے تو کبھی مثبت سوچ کا معاشرہ نہیں بن پائے گا ۔ قومیں شعور سے آگے بڑھتی ہیں ، ضد اور ہٹ دھرمی سے نہیں ۔ بیماری کا علاج نہ ہو تو نتیجہ قبل از وقت موت ہوتا ہے ۔ کچھ ایسا ہی لگتا ہے کہ سیاست کی یہ بیماری دور نہ ہوئی تو بہت جلد سیاست قبر میں چلی جائے گی ۔ کوئی ہلاکو سر پر آ بیٹھے گا ۔
آزاد ھاشمی
١٩ جون ٢٠١٨
Tuesday, 19 June 2018
چیونٹی کی ٹانگ میں رسی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment