کچھ رشتے ایسے بھی ہوتے ہیں , جن کو نام دینا مشکل ہو جاتا ہے - مگر ان رشتوں کی خوشی اپنے خون کے رشتوں کی طرح عزیز ہو جاتی , اور انکے پاؤں میں لگنے والے کانٹے کی چبھن اپنے دل میں محسوس ہوتی ہے - بن دیکھے , بن ملے بھی احساس کا رشتہ اتنا مضبوط ہو جانا , نہ فہم قبول کرتا ہے اور نہ روایات میں مثال ملتی ہے -
ایسا ہی رشتہ میری زندگی کی کتاب کی ایک کہانی بن گیا - وہ ایک با وقار افسر اور ذہین نوجوان ہے - نہ گردن میں افسرانہ اکڑ , نہ لہجے میں تیکھا پن - ہر ضرورت مند کی مدد کے لئے تیار - گفتار میں مٹھاس - نوجوانی میں بھی مکمل سنجیدگی - ایسی بہت ساری خوبیوں نے اسے میرے اپنے بچوں کی طرح میرے روح کا حصہ بنا دیا -
ایک تذبذب پہلے دن سے میرے لئے سوال تھا کہ جب بھی بات ہوتی , وہ بات کرتے کرتے کہیں گم ہو جاتا - میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ کسی دن یہ راز جاننے کی کوشش کروں گا - دو دن پہلے جب یہ راز پتہ چلا تو میں خود بھی اسی کیفیت کا شکر ہو گیا - اس کے دل پہ ایک ایسا گہرا گھاؤ تھا , جس درد کسی بھی علاج سے نہیں رکتی - اسکی دو بہنیں , عروسی لباس میں , چند منٹوں کے اندر , اسکی نظروں کے سامنے جل گئیں - وہ کچھ نہیں کر سکا - پھول جیسی بچیاں یوں جل کر راکھ ہو جایں گی - اور بھی عروسی لباس میں - ایک قیامت گزر گئی پورے گھر پہ - ماں مبہوت ہوۓ بچیوں کے عروسی لباسوں کی جگہ کفن دیکھ رہی تھی - چاہوں بھی تو درد کی کیفیت نہیں لکھ سکتا - ایسے درد ہر پیمانے سے باہر ہوتے ہیں -
اب سوچتا ہوں , اس گھر میں کبھی کوئی شہنائی نہیں بجے گی , جب بھی کوئی شادی ہوتی ہو گی , ماں مر جاتی ہو گی - بہن بھائی آنسو نہیں روک پاتے ہوں گے -
اب اسکا فون آتا ہے تو ڈرتا ہوں کہ کیسے ہنسی خوشی کی باتیں کروں گا - کیسے اسکے زخموں کی درد بانٹوں گا -
الله ! سے وہ ہمت مانگ رہا ہوں کہ اپنے اس رشتے کی لاج نبھا سکوں - وہ مرہم مل جاے جو اسکے زخم پہ رکھ سکوں -
الله سے وہ سکون مانگ رہا ہوں جو اس گھر کو ضرورت ہے -
الله سے انصاف مانگ رہا ہوں - بچیوں کے لئے جنّت کے بلند مقام مانگ رہا ہوں -
گھر والوں کے لئے وہ نعمتیں مانگ رہا ہوں , جو اس زخم کی درد مٹا دیں - الله کریم بھی ہے قدیر بھی -
وہ ضرور سنے گا -
آزاد ہاشمی
11 مارچ 2016
Monday, 18 June 2018
کیپٹن اکمل
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment