" جنت کی موسیقی "
آج ایک کلپ دیکھنے کا اتفاق ہوا ۔ محترم طارق جمیل صاحب ، کو حق تبلیغ نبھاتے ہوئے دیکھا ۔ شدت سے احساس ہوا کہ اگر اسلام کی تبلیغ کا حق اگر یونہی ادا ہوتا رہا تو معلوم نہیں کہ آنے والی نسلیں کیا سیکھیں گی اور اسلام کی احیاء کا کیا عالم ہو گا ۔ موصوف کے حلقہ ارادت میں اکثریت ان راسخ العقیدہ مسلمانوں کی ہے ، جو دین کو دنیا پر فوقیت دیتے ہیں اور زندگی کے شب و روز کی آسانیاں ترک کرکے ، کمر پہ بستر باندھے نگر نگر لوگوں کو اگاہی دیتے پھرتے ہیں کہ یہ دنیا فانی ہے اور ہم اس میں مسافر ہیں ۔ میں اگلے گھر کی فکر لازم ہے ۔ جہاں ہمیشہ رہنا ہے ۔ یہ ایک لگن کی بات ہے ۔ ایسی لگن والوں کو طارق جمیل بتا رہے ہیں کہ جنت میں اللہ سبحانہ تعالیٰ ایمان والوں کو موسیقی اور گانا سننے کا اہتمام بھی فرمائیں ۔ حوریں گانا گائیں گی اور ایک گانا ستر سال کا ہوگا ۔ اس ستر کے گانے میں اسقدر لذت ہوگی کہ سننے والا جس کروٹ بیٹھا ہوگا ،_ستر سال اسی کروٹ بیٹھا رہے گا ۔ پھر حضرت داودؑ کی آواز میں اللہ کی تمحید سنائ جائیگی ، جس کے ساتھ جنت کے درخت ، پھول پتے موسیقی کا کردار ادا کریں گے ۔ پھر سرور کائنات کی آواز میں اور آخر میں اللہ سبحانہ تعالی جنتیوں کے سامنے خود قرآن کی تلاوت فرمائے گا ۔
اس ساری کہانی کے پیچھے تحقیق کے ماخذ کیا ہیں ؟ کیا یہ روایت کبھی کسی نے پہلے سنی؟ کیا ابلاغ کیلئے ایسی کہانی سے کوئی مثبت فریضہ ادا ہو گا ؟ موسیقی کے اس درس سے اسلام کی کیا تبلیغ ہوئی ؟ کیا اس کہانی پر ایمان لانے والوں کو کوئی دوسرا ذی شعور رد کر سکے گا؟
میری ناقص عقل کی پرواز اس سے زیادہ نہیں کہ اس قسم کی بے سر و پا کہانیاں اسلام کی اصل تعلیم کو منفی سمت لے جارہی ہیں ۔ مولانا موصوف ، ایک نئی جہت کے تعین کی کوشش کر رہے ہیں ۔ ارادی طور پر کر رہے ہیں تو انتہائی خطرناک کوشش ہے ۔ اگر صرف خطابت کا جادو جگا رہے ہیں تو گمراہی کیطرف پیش رفت ہے ۔ اگر اپنے پاس سے کہانیاں گھڑ رہے ہیں تو قابل سرزنش ہے ۔ ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ ایسی کہانیوں پر خاموش نہ ہوں ورنہ یہ سب سادہ لوح مسلمانوں کے دماغ میں بیٹھ جائیں گی ۔ پھر وہ اپنے معصوم بچوں کو سنائیں گے اور انکے بچے اسے ایمان سمجھ لیں گے ۔
آزاد ھاشمی
٢١ جون ٢٠١٨
Thursday, 21 June 2018
جنت کی موسیقی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment