Tuesday, 19 June 2018

سچائی یا اکثریت

" سچائی یا اکثریت "
اللہ نے جب بھی انسان کی ہدایت کے لئے کسی نبی اور رسول کو مبعوث فرمایا ۔ تو اکثریت نا فرمان ، گمراہ اور اخلاقی طور پر گرے ہوئے لوگوں کی ہی رہی ۔ اسلام کا سورج طلوع ہوا تو لادین ، بت پرست ، شرابی اور زانی ، آگ کو پوجنے والے ، عیسائیت اور  یہودیت کے پیرو کار ، بلا مبالغہ اکثریت میں تھے  ۔ اگر ان سب کو آج بھی اسلام کے مقابل شمار کیا جائے تو اکثریت میں ہیں ۔
ان سب لوگوں سے ایک سوال کی جسارت ہے  ، جو جمہوریت کو دین کی طرح مانتے ہیں کہ  اس ترازو پہ اسلام کا کیا مقام ہو گا ۔
قابل شرم ہے ان مذہبی رہنماؤں کا کردار ، جو اسلام کی چھتری تلے جمہوریت کو پناہ دیئے بیٹھے ہیں ۔ اور ببانگ دہل اعلان کرتے ہیں کہ اسی سیڑھی  سے اسلام کے نظام تک رسائی ہے ۔  کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ جو نظام بنایا ہی اسلام کے تقابل  کیلئے گیا ہے ، اسی نظام سے ہم اسلام کے نفاذ کی امید لگائے بیٹھے ہیں ۔ اسے سوچ کی سادگی کہا جائے ، اسلام سے منافقت کا نام دیا جائے ، یا اسلام دشمنوں کی کاسہ لیسی مانا جائے ۔
لبرلز ، جو اپنے آپ کو حقیقت سے قریب تر سمجھتے ہیں ۔ جو جمہوریت کو ترقی کا زینہ مانتے بھی ہیں اور منوانے کے جتن بھی کرتے رہتے ہیں ۔ ان سے پوچھا جائے کہ اگر برائی کے پرستار زیادہ ہو جائیں تو کیا برائی اختیار کر لینی چاہیئے یا سچائی کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے ۔ 
ہمیں اپنا فیصلہ کرنا ہو گا ۔ سچائی یا اکثریت ۔
شکریہ 
ازاد ھاشمی
6 فروری 2017

No comments:

Post a Comment