Wednesday, 20 June 2018

جبکہ معافیاں خدا سے مانگتے ہیں


جبکہ معافیاں خدا سے مانگتے ہیں
"میں یہ منطق آج تک نہیں سمجھ سکا کہ ہم ظلم و زیادتی انسانوں کے ساتھ کرتے ہیں.
جبکہ معافیاں خدا سے مانگتے ہیں."
میرے ایک محترم دوست کی بات کچھ اسطرح سے اثر انگیز ہوئی کہ بیان کے احاطہ سے باہر ہے - ہم نے حقوق الله بھی احسن طریقے سے کبھی ادا نہیں کئے , جو بھی عبادت کرتے ہیں اس میں ریا , اپنی ضرورتوں کا سوال یا پھر رسمی ادائیگی کی جاتی ہے - الله کے احکامات سے سر کشی کرتے ہیں , چند سجدے , چند روز کی بھوک پیاس اور چند روز کے طواف کعبه کر کے سمجھتے ہیں کہ حق بندگی ادا ہو گیا , اب جو من میں آئیگی کر لیں گے -
یہ تو حقوق الله ہیں , وہ در گزر کر سکتا ہے -
مگر حقوق العباد بندے کا بندے سے معاملہ ہے - اسکی معافی اور تلافی بندوں کے درمیان ہی ہو گی - کسی کی حق تلفی , کسی کی دل آزاری , کسی کے مال میں خیانت , ملاوٹ, کاروباری بد دیانتی اور اسی طرح کی بے بیشمار حقوق العباد ہیں جو روز مرہ کی زندگی میں ہم ارادی طور پر یا غیر ارادی طور پر کرتے ہیں - اور سمجھتے ہیں کہ ہم خیرات , عبادت یا مذہبی معاملات میں اعانت کر کے بری ہو جاینگے - یہ وہ اصل غلطی ہے , جسے ہم نہ سمجھتے اور نہ ہی سمجھنا چاہتے ہیں - جو قومیں حقوق العباد کو اولیت دیتی ہیں وہی آج معاشی طور پر خوشحال ہیں , وہی مہذب کہلاتی ہیں اور وہی سکون کی زندگی گزار رہی ہیں - اسلیے کہ الله اپنے بندوں سے پیار کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے - مگر ہم یہ سمجھ نہیں پاتے کہ حقوق الله بھی لازم ہیں تو حقوق العباد بھی لازم ہیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment