Wednesday, 20 June 2018

دین, وطن اور قوم


اگر مذھب کے نام پر سیاست کرنے والے سیاستدان اور مذہبی جماعتیں اسلامی نظام کے لئے حقیقی طور پر مخلص ہیں - تو ابھی انتخابات کے لئے کافی وقت پڑا ہے , انھیں ایک ایسا اتحاد بنا لینا چاہیے جو ریفرنڈم کے لئے راہ ہموار کرے کہ پاکستان کے ہر شہری سے راۓ لی جاے کہ وہ اسلامی نظام چاہتے ہیں یا مروجہ جمہوری طریقه -
جمہوریت کے ساتھ اسلام کو جوڑنا محض سادہ لوح عوام کے ساتھ دھوکہ ہے - یہ دو الگ الگ طرزہاۓ حکومت ہیں , ایک میں حکومت زیادہ لوگوں کا حق سمجھا جاتا ہے , دوسرے میں اقتدار اعلی الله کے لئے ہے - ایک میں قانون سازی اکثریت کا حق ہے , دوسرے میں قانون الله کا ہے - مذہبی رہنماؤں کی جمہوری اصول و ضوابط کے ساتھ ہم آہنگی نا قابل فہم ہے - اسلام کا نظام , اصول , قوائد اور ضوابط , تعزیرات , نظام معیشت , عدل و انصاف , اور نظم و نسق میں بالکل مکمل ہے , کسی دوسرے نظام کے ساتھ جوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں - نا قابل فہم ہے کہ پچھلے طویل عرصے میں مذہبی جماعتیں کس چیز کے انتظار میں ہیں - اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ لوگوں کی سوچ آھستہ آھستہ لبرل اور سیکولر ہوتی جا رہی ہے , جو باتیں چھپ چھپا کے کی جاتی تھیں اب کھلے عام میڈیا پر تشہیر ہوتی ہے - یہ بے حیائی کا بڑھتا ہوا رحجان اسلامی سوچ کو بری طرح متاثر کر رہا ہے - ہمیں پوری سنجیدگی سے مذہبی لیڈروں کو اس بات پہ متوجہ کرنا ہو گا کہ " اسلام یا جمہوریت " پر ریفرنڈم کروایا جاے - اگر یہ سیاسی ملا متحرک نہیں ہوتے تو حقیقی دانشوروں , علماء اور گدی نشین پیروں کو آگے آنا ہو گا -
اے کاش ! نقار خانوں میں یہ آواز بھی سنی جاے -
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment