" توہین رسالت "
خبر ہے ۔
" تحریک انصاف نے قومی اسمبلی اجلاس میں توہین رسالت قانون میں ترمیم کا مطالبہ کر دیا۔ شرین مزاری نے مطالبہ کیا کہ توہین رسالت قانون معصوم لوگوں کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے اسے ختم کیا جائے۔ اگر حکومت نے اس سلسلے میں خود قرارداد پیش نہ کی تو تحریک انصاف یہ قرارداد لائے گی۔"
کمال ہو گیا ۔ ابھی تو تحریک انصاف کی پتنگ ہوا میں بلند ہی نہیں ہوئی تھی کہ ڈور کو بے لگام کر دیا ۔ سیاست کے نشے میں ، یہ بھول جانا کہ ہماری تو دنیا اور عاقبت ہے ہی توقیر رسالت سے ۔ ہمیں دنیا میں اگر کوئی پہچان حاصل ہے تو صرف رسالت کی غلامی سے ۔ کون کہتا ہے کہ توہین رسالت کے مرتکب لوگوں کو قانون سے سزا ملتی ہے ۔ یہ سزا تو رسالت کے شیدائی منتخب کرتے ہیں ۔ اور وہی عملدرامد کرتے آئے ہیں ، کرتے رہتے ہیں اور کرتے رہیں گے ۔
توہین رسالت کا معاملہ قانون کا نہ تھا اور نہ ہے ۔ یہ ایمان کا معاملہ ہے اور جن دلوں میں ایمان زندہ ہے ، وہ رسول پاک پر کھلنے والی زبان کو روکتے بھی رہیں گے اور کاٹتے بھی ۔ رسول خدا کی توہین کا مرتکب ، اللہ کی ذات کی توہین کا مرتکب ہے ۔ اسے روکنا ، سزا دینا اور کیفر کردار تک پہنچانا ، ایمان ہے ، جہاد ہے ۔
بی بی یقین کر لو کہ تمہاری سیاست کی کہانی زوال کا شکار ہو گئی ۔ اگر یہ پالیسی تحریک انصاف کی پالیسی ہے ، عمران خان کی سوچ ہے ، تمہارے دیگر رفقاء کا ارادہ ہے ، تو اپنی تحریک کی ناکامی کا یقین کر لو ۔ یہود نوازی کا جو الزام ہے ، اسے حقیقت کا رنگ دے رہے ہیں آپ لوگ ۔ ہوش کرو اور اپنے ایمان کی اصلاح کرو ۔
ازاد ہاشمی
18 اپریل 2017
Tuesday, 19 June 2018
توہین رسالت
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment