" منسوب روایات "
ہمارا المیہ ہے کہ جس کا جو دل چاہتا ہے , کسی نہ کسی مسلمان مفکر کے نام سے منسوب کر کے کچھ بھی لکھ ڈالتا ہے . اس رحجان نے حقائق اور جھوٹ کے درمیان فرق ختم کر دیا ہے . بات یہاں پہ ختم نہیں ہوتی بلکہ بے شمار کتب انہی بے سروپا حوالوں سے بھری پڑی ہیں .
احادیث کے حوالوں سے بھی یہی صورت حال بنا دی گئی کہ تمام مسالک کے پاس اپنے مسلک کی ترویج کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں . اور ان ثبوتوں پر بے شمار کتب لکھ ڈالیں . ایسا بندوبست کر دیا کہ اب کسی بھی شعور اور عقل سے متصادم ثبوت کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا .
یہ سب کیوں ہوا , اسکے پیچھے کیا محرکات تھے , یہ جسارت کرنے والے علماء تھے یا کسی کی ایماء پر کرنے والے دین دشمن . کچھ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا .
البتہ ایک بات واضع ہے کہ اس سے مسلمان گروہوں میں بٹ گئے , تفریق کی ایسی دیواریں کھڑی ہو گئیں , جن کو اب گرانا ممکنات میں سے نہیں .
ہر کوئی اپنے مکتبہ فکر کی پوجا میں لگا ہے . تحقیق کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی جاتی , کہ جانا جائے کیا غلط ہے اور کیا صحیح . حد تو یہ ہے کہ قران کو تعظیم کے غلاف میں بند کر کے اوطاق میں سجا دیا اور اختلافی کتب کی تعلیم کو ایمان کا درجہ دے ڈالا . اللہ کی کتاب سے زیادہ حضرت , علامہ , محقق , مفسر , محدث کی تحریریں اہم بن کر رہ گئیں .
سوشل میڈیا پہ تو کمال ہو گئی ہے کہ جس کا جو دل چاہتا ہے کسی بھی نام سے منسوب کر کے لکھ ڈالتا ہے . اب تو کئی علماء ایسے ایسے لیکچر دیتے ہیں , ایسی ایسی روایات دھراتے ہیں کہ الامان . سمجھ نہیں آتا کہ کس حوالے سے کہانی گڑھ لی گئی ہے . عقل و فہم سے بالاتر باتیں , دیگر مذاہب کو ثبوت فراہم کرتی ہیں کہ ہم مسلمان توہمات کا شکار امت ہیں . ہم قدیم زمانے کے پسماندہ ذہن رکھنے والے لوگ ہیں . جبکہ قران ان علوم کا منبع ہے , جن کی ضرورت انسان کو قیامت تک رہے گی . حکم ربی ہے کہ قران کو فکر کے ساتھ پڑھو , یہ آسان ہے , واضع ہے , مدلل ہے اور عام فہم ہے . مگر ہمارے سامنے کیا رکھا گیا , کس نے رکھا , کیوں رکھا . انہی لوگوں نے جو من گھڑت روایات کو فروغ دینا چاہتے تھے . جو فروقوں کی ترویج کرنے میں مستعد تھے . جو امت کو پارہ پارہ کرنے کے درپے تھے . جو اللہ کے حکم کو " اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور فرقہ بندی نہ کرو " اپنی سوچ کے تابع کرنے پر مصر تھے . ان منسوب روایات کو پورے انہماک سے پرکھنے کی ضرورت ہے . تا کہ امت کا اتحاد بن سکے .
ازاد ھاشمی
4 مئی 2017
Tuesday, 19 June 2018
منسوب روایات
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment