"عید اور پرانے کپڑے "
ہمارا مزاج کچھ ایسا بن گیا ہے کہ جو چیز استعمال کے قابل نہیں رہتی , یا جس کے استعمال سے دل بھر جاتا ہے . ہم گھر کے ملازمین یا جاننے والے مفلسین میں تقسیم کر کے خوش ہوتے ہیں کہ ہم نے انکی عید کا اہتمام کر دیا . کبھی خیال ہی نہیں آیا کہ انکے دلوں میں خوشی ہوتی ہوگی یا مایوسی کہ انکے اور انکے بچوں کے نصیب میں عید پر بھی پرانے کپڑے لکھے تھے . جو کھانا بچ جاتا ہے وہ بھی خیرات سمجھ کر بانٹا جاتا ہے . حالانکہ ایسی تمام خیرات محض خود فریبی ہوتی ہے . اللہ جانتا ہے کہ ہم بخیلی کا مظاہرہ کرتے ہیں . اگر اللہ نے استطاعت دی ہے تو کیا فرق پڑتا تھا , اگر ہم انہیں وہ دیتے جو اپنی ذات کیلئے پسند کرتے ہیں . غریب کو احساس ہوتا کہ ہم نے اسے اپنی خوشیوں میں شامل کیا ہے . اسکے اندر کا احساس کمتری نہ جاگتا . کیا فرق پڑے گا اگر عید پر یتیم , مفلس اور نادار بچوں کو بھی نئے کپڑے پہنا دئے جائیں . اس عید پر یہ تجربہ کرکے تو دیکھیں , میرا ایمان ہے , ایسا کرنے سے آپ حقیقی خوشی محسوس کریں گے . اللہ بھی آپ پر خوش ہو گا اور غریب کے دل سے نکلی دعائیں , کئی مصیبتوں کو ٹال دیں گی . اللہ کی مخلوق کی خوشی کا اہتمام اللہ کی رحمتیں لوٹنے کا اہتمام ہوا کرتا ہے . کیا ہم ایسا کریں گے .
آزاد ھاشمی
16 جون 2017
Tuesday, 19 June 2018
عید اور پرانے کپڑے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment