Tuesday, 19 June 2018

کہتے ہیں


" کہتے ہیں "
مجھے تو بین الاقوامی سیاست اور سیاست کے کھلاڑیوں سے کوئی خاص دلچسپی کبھی نہیں رہی ۔ کہتے ہیں کہ اسرائیل کا ایک وزیراعظم ، جو مسلمانوں کی نسل کشی پر ہمہ وقت تیار رہتا تھا ، پاگل خانے سے کئی سال علاج کرواتا رہا تھا ۔ سنا ہے کہ بھارت کا ایک وزیر اعظم صبح کا آغاز اپنا پیشاب پی کر کیا کرتا تھا ، اور موجودہ وزیر اعظم بھی مسلمانوں کی دشمنی میں نیم پاگل ہے ۔ سنا ہے کہ امریکہ کے کئی صدر اخلاقی پستی کی اس حد پر پہنچے ہوئے تھے کہ اپنے ماتحت عورتوں سے جنسی تعلقات رکھتے تھے ۔ سنا ہے کہ موجودہ امریکی صدر بھی پاگلوں کی سی حرکتیں کرتا ہے ، اور ذہنی مریض دکھائی دیتا ہے ۔ سنا ہے کہ امریکہ کی صدارتی مہم کے دوران ، دونوں امیدواروں نے رقص کے جوہر بھی دکھائے ۔
سنا ہے کہ شعوری بلوغت کا تعلق کالج یونیورسٹی سے نہیں ہوتا ، کردار کی پختگی سے ہوتا ہے ۔ جب پاگل ، متعصب ، شعوری نا بالغ ، سربراہان بن جائیں گے تو معاشرتی پستی تو ہو گی ۔ جب مہذب لوگ ، جنسی مریضوں کو اپنا رہنماء مان لیں گے تو تہذیب کے پاس باقی کیا رہ جائے گا ۔
یہ سب کیوں ہو رہا ہے ۔ کیا اخلاقی دیوالیہ پن ہو گیا یا چند گروہوں نے مہذب لوگوں کو یرغمال بنا رکھا ہے -
یہ ساری آشیر باد ، اسی نظام کی ہے ، جسے ہم جمہوریت کہتے ہیں ۔ یہودیوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات سے بغاوت کی ، عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ۔ ہم مسلمانوں نے بھی نظام اسلام ، نظام مصطفےٰ سے انحراف کیا ہے ۔ آج ہم پر بھی اخلاقی دیوالیہ لوگ مسلط ہیں ۔ کہتے ہیں ، حکمرانوں سے قوموں کے مزاج کا پتہ چلتا ہے ۔ اب کسی قوم کے بارے میں یہ جان لینا کہ وہ کتنی مہذب ہے ، واضع ہو گیا ۔
ہم مسلمان ، ایسے دین کے ماننے والے ہیں ، جس کی اخلاقیات ، تہذیب و تمدن تسلیم شدہ حقیقت ہے ، پھر ہمیں کیا ہو گیا ۔ کہ ہماری پہچان بد دیانت ، ملت فروش ، جنگجو اور فسادی کیسے بن گئی ۔
شکریہ
ازاد ہاشمی
27 جنوری 2017

No comments:

Post a Comment