" فادر ڈے "
بہت سارے عزیز آج جس عقیدت سے پیغام بھیج رہے ہیں ۔ اپنی عمر رفتہ کا خیال شدت اختیار کرتا جا رہا ہے ۔ گو باپ اور ماں کیلئے ایک دن کا تعین ، نہ تو انکی قربانیوں کا بدل ہے ، نہ انکی عظمت کا اور نہ اس محبت کا جو اولاد کو والدین سے رکھنی چاہئے ۔ اس رسم نے میری آنکھوں کو دو طرح سے بوجھل کر دیا ۔
ایک احساس تو دل کو چیر رہا ہے اور قسمت پر شکایت ہو رہی ہے کہ میں ان بد نصیبوں میں سے ایک ہوں ، جن سے باپ کا سایہ چھن چکا ہے ۔ ایک خلش جاگ رہی ہے کہ کاش ! آج میرے ابا جان بھی ہوتے اور میں بھی دعائیں لیتا ۔ اس خلش نے مجھے آج سے چھیالیس سال پیچھے لا کر کھڑا کر دیا ہے ۔ جب میرے عظیم والد محترم کا جنازہ ایک بڑے میدان میں پڑا تھا اور پورے شہر کے لوگ بھاگ بھاگ کر شامل ہو رہے تھے ۔ میری نظروں سے یہ منظر کبھی اوجھل نہیں ہوتا ۔ جب میرا چھوٹا بھائی گم سم کھڑا دیکھ رہا تھا اور کچھ سمجھ نہیں پا رہا تھا ۔ میری نظروں کا دیکھا ہوا یہ منظر آج بھی اسی دن کی طرح تازہ ہے ۔ اسکے بعد وقت نے جتنے تھپڑے میرے گالوں پہ مارے ، باپ کی کمی کا ثمر تھے ۔ جیسے رشتوں نے منہ پھیرا ، باپ کا عدم وجود تھا ۔ کندھوں پر بوجھ کی جو شدت محسوس ہوتی رہی وہ باپ کی زندگی میں کبھی نہیں ہوتی ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے ۔ جب میرے ابا جان نے آخری وصیت کی تھی ۔ چند لفظ ، مسکراتے ہوئے ہونٹوں سے مختصر سی بات ۔
" بیٹا ! میں نے تم لوگوں کو کبھی لقمہ حرام نہیں دیا ۔ زندگی میں اسکا خیال رکھنا "
نہیں بھول سکا ہوں اور اس کو یاد رکھنے کی بہت قیمت چکائی ہے اور چکا رہا ہوں ۔ یہ جان کر کہ میرا کوئی بھی غلط قدم میرے باپ کی روح کا آزار نہ بن جائے ۔ میری نظر میں یہی وہ عمل ہے جو میری دعا بھی ہے اور میرا خراج تحسین بھی ۔
ان پیغامات سے ان سب عزیزوں کے دکھوں کا احساس بھی آنکھوں کو پر نم کر رہا ہے ، جن کو باپ کی کمی کا درد ہے ۔ دعا کرتا ہوں کہ اللہ پاک ان سب کو اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے جو چلے گئیے ۔ اور ان سب کو عمر جاوداں بخشے جو موجود ہیں ۔ اپنے والدین کیلئے دعا کرنا نہ صرف فرض ہے بلکہ عبادت ہے ۔ دوسروں کے والدین کیلئے دعا کرنا ، حقوق العباد ہے ۔ آئیے اس موقع پر فرض بھی نبھائیں اور حقوق العباد بھی پورے کریں ۔
آزاد ھاشمی
١٨ جون ٢٠١٨
Sunday, 17 June 2018
فادر ڈے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment