Wednesday, 20 June 2018

دوستوں کا سوال "

دوستوں کا سوال "
اکثر دوست پوچھتے ہیں کہ موجودہ نظام کی تبدیلی کیسے ممکن ہے - کچھ یقین کیۓ بیٹھے ہیں ,کہ اب تبدیلی کا قطعی امکان نہیں - کچھ کسی طاقتور مسیحا کا انتظار کر رہے ہیں - کچھ خود بھی مایوس ہیں اور دوسروں کو بھی مایوس کر رہے ہیں کہ اب یہی قوم کا مقدر ہے -
تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی انقلاب , کوئی بھی تبدیلی لانے میں چند لوگوں کا کردار ہی ہوا کرتا ہے - اور وہ چند لوگ عام سطح کے ہوتے ہیں - کسی اشرافیہ سے نہیں ہوتے - یہ حقیقت ہے کہ اس نظام کا زہر ہماری رگ رگ کو قابو کر چکا ہے - ہمارے علماء , ہمارے محقق , دانشور , قانون دان , استاد , سیاستدان , فوجی اور دیگر اداروں کے لوگ , اس موزی مرض کا شکار ہیں - اپنے دین , مذھب , ایمان اور روایات کو ثانوی حیثیت دے دی گئی ہے - جمہوریت کے خلاف بولنا ملک دشمنی بن جاتا ہے -
اس سب صورت حال کے باوجود اس مرض کا علاج آسان بھی ہے اور ممکن بھی -
اسکا پہلا مرحلہ یہ ہے کہ جو اس نظام کو پسند نہیں کرتے , وہ کسی- جمہوری عمل کا حصہ نہ بنیں -
دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ اپنے احباب کو اسی تحریک میں شامل کیا جایئے -
تیسرا مرحلہ یہ ہے کہ انتخاب کی کسی بھی سرگرمی میں بطور شغل بھی شمولیت نہ کی جائے -
یہ وہ پہلا قدم ہے , جو مشن کو تقویت دے گا - اسے دیکھ کر بہت سارے کونوں سے , دانشور بھی نکل آئیں گے - میڈیا سے بھی ابن الوقت حصہ ڈال دیں گے - پٹے ہوے ساستدان بھی ہمنوا ہو جائیں گے -
خوف کی فضا بدل جاے گی - اور دیوانوں کے خوابوں کی تعبیر قریب ہو جائیگی - گونگوں کو زبان ملنا ضروری ہے -
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment