ماں کو کیوں نہیں لاۓ
سردیوں کے دن تھے , دھند کی وجہ سے
گاڑیاں اکثر لیٹ ہو جاتی تھیں - ہم آمنے سامنے کی سیٹ پہ چھ لوگ بیٹھے تھے - سفر
لمبا ہو تو ہمراہیوں سے دوستی ضروری ہو جاتی ہے - سیاست , مذھب , ذاتی تجربات , لطیفے
اور اخبار بینی ایسے مشاغل ہوتے ہیں جو سفر کو آسان کر دیتے ہیں - ہر کسی کو سونے
کے لئے برتھ الاٹ تھی - چوبیس گھنٹے کا سفر چھتیس گھنٹوں میں بدل چکا تھا - ہمارے
ہمراہیوں میں ایک صاحب مسلسل کھڑکی سے باہر دیکھتے رہے - کسی کسی لطیفے پہ ہنسنے
کے علاوہ ایک سوال بار بار پوچھ رہے تھے -
"گاڑی کب کراچی پہنچے گی "
پورے سفر میں سواۓ چاے کے نہ کچھ کھایا نہ پیا - جب بھی پوچھا , ایک ہی جواب دیا -
" شکریہ جی , کچھ بھی کھانے کو جی نہیں مان رہا "
اب کراچی صرف دو گھنٹے کی مسافت پہ تھا - میرا صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا , آخر میں نے اس ساری ریاضت کا سبب پوچھ لیا - وہ صاحب مسکراۓ اور پہلی بار کچھ کہنے لگے -
" میں مقبوضہ کشمیر سے آیا ہوں "
اب تو ہر کوئی ہمہ تن گوش تھا - محبت کے موجزن طوفان امڈ پڑے -
" میں کراچی اپنی بچھڑی ہوئی بیٹی سے ملنے جا رہا ہوں - بیس سال پہلے اسے دیکھا تھا , جب وہ صرف تین سال کی تھی " اسکی آنکھیں چھلک پڑیں -
" اس بیس سال میں جو انتظار آج کے دن کا کیا ہے , اسکا اندازہ کوئی نہیں کر سکتا - پچھلے سال اسکی ماں اسی انتظار میں رو رو کے مر گئی - آج وہ میرے ساتھ ہوتی تو اس سفر میں مر جاتی -"
" مجھے اسکی شکل یاد نہیں , اسے میری شکل یاد نہیں - کیسے پہچانوں گا , جب وہ سٹیشن پہ آئی ہو گی "
گاڑی ایک بار پھر رک گئی - اس نے پھر باہر دیکھنا شروع کر دیا - اب ہم سب کو انتظار کی اذیت کا اندازہ ہو رہا تھا - کسی کا بس نہیں چل رہا تھا ورنہ ٹرین کو اڑا کر کراچی پہنچا دیتے - آج یہ اندازہ ہوا کہ بیٹی کے لئے ہر دل ایک جیسا دھڑکتا ہے - ہر کوئی اداس تھا جیسے سب کی بیٹی انتظار کر رہی ہو -
آخر دھیرے دھیرے پلٹ فارم سرکنے لگا - ہر طرف انتظار میں تھکے ہوۓ لوگ ہی لوگ تھے - ایک باپ کی آنکھیں اپنی بیٹی کو مسلسل تلاش کر رہی تھیں - سامنے بنچ پہ ایک خاتون بیٹھی ہر ہر چہرے میں باپ کو تلاش کر رہی تھی - یہ خون بھی کیا چیز ہے , جہاں رشتہ دیکھتا ہے وہیں متلاطم ہو جاتا ہے - باپ بیٹی کو دیوانہ وار چوم رہا تھا , بیٹی دھاڑیں مار مار کر رو رہی تھی , کبھی ہاتھ چومتی , کبھی لپک کر باپ سے چمٹ جاتی - ہم سب اشک بار تھے -
" ابا ! ماں کو کیوں نہیں لاۓ "
سماں خوش بھی تھا سوگوار بھی -
(آزاد ہاشمی )
"گاڑی کب کراچی پہنچے گی "
پورے سفر میں سواۓ چاے کے نہ کچھ کھایا نہ پیا - جب بھی پوچھا , ایک ہی جواب دیا -
" شکریہ جی , کچھ بھی کھانے کو جی نہیں مان رہا "
اب کراچی صرف دو گھنٹے کی مسافت پہ تھا - میرا صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا , آخر میں نے اس ساری ریاضت کا سبب پوچھ لیا - وہ صاحب مسکراۓ اور پہلی بار کچھ کہنے لگے -
" میں مقبوضہ کشمیر سے آیا ہوں "
اب تو ہر کوئی ہمہ تن گوش تھا - محبت کے موجزن طوفان امڈ پڑے -
" میں کراچی اپنی بچھڑی ہوئی بیٹی سے ملنے جا رہا ہوں - بیس سال پہلے اسے دیکھا تھا , جب وہ صرف تین سال کی تھی " اسکی آنکھیں چھلک پڑیں -
" اس بیس سال میں جو انتظار آج کے دن کا کیا ہے , اسکا اندازہ کوئی نہیں کر سکتا - پچھلے سال اسکی ماں اسی انتظار میں رو رو کے مر گئی - آج وہ میرے ساتھ ہوتی تو اس سفر میں مر جاتی -"
" مجھے اسکی شکل یاد نہیں , اسے میری شکل یاد نہیں - کیسے پہچانوں گا , جب وہ سٹیشن پہ آئی ہو گی "
گاڑی ایک بار پھر رک گئی - اس نے پھر باہر دیکھنا شروع کر دیا - اب ہم سب کو انتظار کی اذیت کا اندازہ ہو رہا تھا - کسی کا بس نہیں چل رہا تھا ورنہ ٹرین کو اڑا کر کراچی پہنچا دیتے - آج یہ اندازہ ہوا کہ بیٹی کے لئے ہر دل ایک جیسا دھڑکتا ہے - ہر کوئی اداس تھا جیسے سب کی بیٹی انتظار کر رہی ہو -
آخر دھیرے دھیرے پلٹ فارم سرکنے لگا - ہر طرف انتظار میں تھکے ہوۓ لوگ ہی لوگ تھے - ایک باپ کی آنکھیں اپنی بیٹی کو مسلسل تلاش کر رہی تھیں - سامنے بنچ پہ ایک خاتون بیٹھی ہر ہر چہرے میں باپ کو تلاش کر رہی تھی - یہ خون بھی کیا چیز ہے , جہاں رشتہ دیکھتا ہے وہیں متلاطم ہو جاتا ہے - باپ بیٹی کو دیوانہ وار چوم رہا تھا , بیٹی دھاڑیں مار مار کر رو رہی تھی , کبھی ہاتھ چومتی , کبھی لپک کر باپ سے چمٹ جاتی - ہم سب اشک بار تھے -
" ابا ! ماں کو کیوں نہیں لاۓ "
سماں خوش بھی تھا سوگوار بھی -
(آزاد ہاشمی )
No comments:
Post a Comment