Wednesday, 20 June 2018

کیا ہوا تیرے دل کو


لوگ پوچھتے ہیں
کیا ہوا تیرے دل کو
کیا کہوں کہ
بے وفا ہو گیا ہے
روٹھ جاتا ہے بات بات پر
نہ جانے کیوں خفا ہو گیا ہے
ہر بات اسکی مانتا رہا ہوں
نہ جانے اسے کیا ہو گیا ہے
کبھی بیٹھنے لگتا ہے
کبھی بھڑک اٹھتا ہے
نہ سنتا ہے کسی کی
نہ مانتا ہے کسی کی
کچھ تو کہے
کچھ تو بولے
کچھ تو مانگے
ایسے لگتا ہے کہ نہ آشنا ہو گیا ہے
(آزاد ہاشمی )

No comments:

Post a Comment