لوگ پوچھتے ہیں
کیا ہوا تیرے دل کو
کیا کہوں کہ
بے وفا ہو گیا ہے
روٹھ جاتا ہے بات بات پر
نہ جانے کیوں خفا ہو گیا ہے
ہر بات اسکی مانتا رہا ہوں
نہ جانے اسے کیا ہو گیا ہے
کبھی بیٹھنے لگتا ہے
کبھی بھڑک اٹھتا ہے
نہ سنتا ہے کسی کی
نہ مانتا ہے کسی کی
کچھ تو کہے
کچھ تو بولے
کچھ تو مانگے
ایسے لگتا ہے کہ نہ آشنا ہو گیا ہے
(آزاد ہاشمی )
کیا ہوا تیرے دل کو
کیا کہوں کہ
بے وفا ہو گیا ہے
روٹھ جاتا ہے بات بات پر
نہ جانے کیوں خفا ہو گیا ہے
ہر بات اسکی مانتا رہا ہوں
نہ جانے اسے کیا ہو گیا ہے
کبھی بیٹھنے لگتا ہے
کبھی بھڑک اٹھتا ہے
نہ سنتا ہے کسی کی
نہ مانتا ہے کسی کی
کچھ تو کہے
کچھ تو بولے
کچھ تو مانگے
ایسے لگتا ہے کہ نہ آشنا ہو گیا ہے
(آزاد ہاشمی )
No comments:
Post a Comment