Tuesday, 19 June 2018

میں نے سنا ہے

" میں نے سنا ہے "
جب سے ہوش سنبھالا ہے . ایک یقین تھا کہ ہماری قوم کی حفاظت میں فوج کا کردار بہت اہم ہے . فوجی جرنیلوں کے کارنامے بھی بہت سنے تھے . مارشل لاء میں لوگ کتنے ایماندار ہو جاتے ہیں . یہ سب اتنا سنا , اتنا سنا کہ ایمان بن گیا . جس نے فوج کے خلاف ایک لفظ کہا وہ غدار لگا . ایک دوسرا لفظ ذہن کے ہر خانے میں سرایت کر چکا ہے کہ ہماری ایجینسیاں دنیا کی نمبر ایک قابل ترین اور متحرک ایجینسیاں ہیں . جو زمین کی تہہ سے بھی مجرم اور وطن دشمن کو کھینچ لاتی ہیں . بہت فخر تھا اور ابھی بھی زعم باقی ہے .
اب سنتے ہیں کہ تھوڑے تھوڑے وقفوں سے ہمارے  انتہائی راز دار ادارے آگ کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں اور سب کچھ جل جاتا ہے . کیوں جل جاتا ہے . اسکے پیچھے کیا راز ہے . یہ آگ صرف ریکارڈ ہی کیوں جلاتی ہے . یہ آگ بڑے بڑے محلوں میں کیوں نہیں لگتی . یہ آگ سے بڑے بڑے لوگوں کے اثاثے کیوں نہیں جلاتی . ہماری بہت ہی قابل قانون نافذ کرنے والی ایجینسیاں کیوں نہیں جانتیں . ہمارے مبصرین اور میڈیا والوں کو کیوں خبر نہیں ہوتی .
سنا ہے جب محافظ چور کا ساتھی بن جائے تو چوری کے نشان کبھی نہیں ملتے . سنا ہے لنکا ڈھانے میں گھر کا بھیدی شامل ہوتا ہے . سنا ہے جب نحوست سر پر آ جائے تو گھر کے چراغ سے گھر جل جایا کرتے ہیں .
پھر یہ فیصلہ کیوں نہیں کیا جاتا کہ اب ایسی لگنے والی ہر آگ کو کیسے روکنا ہے . اور کس نے روکنا ہے . عوام نے یا نمبر ون ایجینسیوں نے , یا یہ معاملہ بنگلہ دیش جیسے دوسرے سانحہ تک التوا میں رکھنا  ہے . (  اللہ کبھی ایسا نہ کرے ) .
انحصار کرنے والی قومیں ایک دن ختم ہو جایا کرتی ہیں . اور جرات کرنے والے لوگ ایک مضبوط قوم بن کر ابھرا کرتے ہیں . یہی تاریخ  کی حقیقت ہے .
ازاد ھاشمی
11 ستمبر 2017

No comments:

Post a Comment