" مذہب میں جدت "
اسلام کی بنیادی اساس ، قرآن اور اسوہ حسنہ پر ہے ۔ اسوہ حسنہ میں جیسے زندگی کا عملی نمونہ آپؐ نے پیش کیا اور جیسے ضروری تشریحات کیں ، جسے سنت رسولؐ کہیں یا احادیث ، یہی سب کلیہ اور قاعدہ ہے ۔ اس پر دین کو آسان اور مزید مفصل شکل دینے کیلئے منطق ، فقہ ، تفسیر اور احادیث کے ساتھ اجماع کا بھی لازم ہو جانا ، گو ایک مثبت عمل تھا ۔ مگر اس کے منفی اثرات بھی پڑے ۔ بہت سارے معاملات متنازعہ ہوگئے اور بہت سارے واضع احکامات ابہام میں چلے گئے ۔ دین کا علم عام انسان کے شعور سے بلند سے بلند تر ہوتا گیا ۔ پھر یہ علماء کی دسترس میں چلا گیا ۔ عام انسان دور سے دور ہوتا گیا اور مسالک کے مبلغین اسے اپنے اپنے حجروں میں لیکر بیٹھ گئے ۔ پھر اسی فکر نے کئی راہیں کھول کر الگ الگ مدارس بنا ڈالے ۔ سادہ اور سطحی علم کے لوگ اپنی اپنی عقل اور علم کے مطابق ان مسالک کے ساتھ جڑتے گئے ۔ اس تحریک کے تسلسل نے عام مسلمان کو الجھا کر رکھ دیا ۔ اب اگلا مرحلہ جو آجکل زیادہ موثر ہو رہا ہے ، وہ دین میں جدیدیت کیطرف رحجان ہے ۔ سائینسی علوم کے ساتھ مذہب کو جوڑتے ہوئے کچھ جدید طرز کے فلاسفر میدان میں آگئے ہیں اور انہوں نے میڈیا کے توسط سے ہر شخص تک ایسی رسائی حاصل کر لی ہے کہ لوگ انہیں سکالر سمجھتے ہیں ۔ ان سکالرز نے مذہبی رحجان کے لوگوں کی نبض پر ایسا ہاتھ رکھا ، اوائل میں قابل فہم تعلیمات بھی عام کیں ، بے مقصد ترجیحات کی بھی حوصلہ افزائی کی ۔ جب گرفت مضبوط ہو جاتی ہے تو یہ جدیدیت کی روشنی میں مذہب کے اصولی موقف کا بھی رخ موڑنے پہ لگے ہوئے ہیں ۔ اسلامی حدود میں ، احکامات میں اور بنیادی ارکان اسلام میں بھی اپنی ضرورت کے مطابق تبدیلی کی تعلیم کو عام کیا جانے لگا ہے ۔ ان سکالرز کے سامنے دوزانو ہونے والوں میں آزاد خیال لوگوں کی اکثریت ہے ۔
ایسا کیوں ہو رہا ہے ، اسکی ذمہ داری کس پہ ہے ۔ اب یہ وہ سوال ہیں ، جس کا ایک ہی جواب ہے کہ علماء نے درست سمت کی تعلیمات دینے میں کوتاہی کی اور دین کو تنگ نظری کا شکار کر دیا ۔ لوگوں کو اصل مذہبی شعور سے دور رکھا اور قصے کہانیاں سناتے رہے تاکہ انکی دکانداری برقرار رہے ۔ اب جدیدت کے اکثر سکالر ، یورپ کی جھولی میں بیٹھ کر بے دریغ دین کی تعلیمات کو ماڈرن کر رہے ہیں ۔ انکی سپورٹ میں میڈیا انکے ساتھ ہے ۔ جبکہ دوسرے علماء ابھی بھی کافر بنانے کیلئے تحقیق پر لگے بیٹھے ہیں ۔ عام فہم شخص اس بات پہ قائل ہو گیا ہے کہ یہی جدت پسند سکالرز کی رائے اور تحقیق درست ہے ۔ ملا کو نہ دین کا پتہ ہے اور نہ دینی تعلیمات سے واقفیت ہے ۔ گویا اب اگلا میدان ان یورپ زدہ سکالرز کیلئے کھلا ہے ۔
آزاد ھاشمی
٢٠ جون ٢٠١٨
Thursday, 21 June 2018
مذہب میں جدت
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment