ایک تلخ حقیقت
یہ ایک تلخ حقیقت ہے جو تقریباً ہر با شعور شخص کے مشاہدے میں ہے - کہ ہمارے مذہبی لیڈروں نے اسلام کے معاشی , معاشرتی , تجارتی , عدالتی , قانونی , سفارتی اور طرز حکومت پر کبھی کوئی آگاہی نہیں دی - اس کی ایک وجہ تو یہ بھی رہی کہ انہوں نے اسلام کے اہم معاملات کو سمجھنے کی بجاۓ لا حاصل باتوں پر زیادہ توجہ رکھی - کیونکہ اس سے زیادہ فایدے مل سکتے تھے - اور یہ دکانداری کے لئے آسان ترین رستہ تھا - اسلام کی تعلیمات کو صرف نمازوں , روزوں , حج اور لمبے قصے بیان کرنے تک محدود کر دیا گیا - گویا کہ زندگی کے اصل امور سے کوئی تعلق ہی نہیں رہنے دیا - ہمیں اس کا حل ڈھونڈھنے کے لئے یہودی نظام بنک اور حکومتی امور کے لئے جمہوریت کو اختیار کرنا پڑا -
ان مذہبی لیڈروں کی ساری علمیت طلاق , نکاح , ازدواجی معاملات کبھی باہر نہیں آ سکے -
جو متحرک ہوۓ انہوں نے تلواریں پکڑ لیں اور جہاد کے نام پر جس کو چاہا قتل کر ڈالا - یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے امن والے مذھب کو دہشت گرد مذھب کی شکل دے ڈالی - کچھ امن کی شمع جلانے والوں نے مسجدیں سنبھال لیں اور نماز کے طریقے بتانے اور نماز نہ پڑھنے پر درد ناک عذاب کا سبق ازبر کروانا شروع کر دیا - کچھ نے قلم پکڑ لئے اور کتابیں لکھنا شروع کر دیں جس سے ہر مخالف کو کافر کہنا ایک عام سی بات بن گیا - انتہا یہ ہوئی کہ ہر مسلمان کو کفر کا فتوہ ملنے لگا -
مذہبی لیڈروں کی اس غیر ذمہ داری کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسلام کے نام پر حاصل کیے جانے والے ملک پہ وہ لوگ حکمران بن بیٹھے جن کو الله کے کلام کی چند آیات تک یاد نہیں - جو ہر اس برائی میں آلودہ ہیں جو اسلام کے منافی ہے - اور گناہ کی فہرست میں آتی ہے -
آزاد ھاشمی
30 جولائی 2015
Monday, 18 June 2018
ایک تلخ حقیقت
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment