Monday, 18 June 2018

نواسہ رسولؐ کا سجدہ

" نواسہ رسول ص کا سجدہ "
ابن علی کی جرات  ، عظمت ، استقلال  ، صبر اور رضاے الہیٰ پر رضا کا امتحان تکمیل کے آخری درجے پر پہنچ گیا۔  کائنات میں اس سے بڑی آزمائش کسی پر نہیں آئی  اور نہ کسی نے اتنا حوصلہ دکھایا   ۔  ناقد جتنی بھی کوشش کرے اس سچائی کو کبھی نہیں جھٹلا سکے گا ۔
علی کی جرات کے وارث کو سلام کہ بدن کا تیروں سے چھلنی جسم ، خون سے تر لباس ، کربلا کی ریت پر تن تنہا ہونے کے باوجود ، یزید کا  سارا لشکر اس انتظار  میں کہ آپ سجدہ کریں اور وہ سر مبارک جدا کریں ۔ پوری کائنات میں خون سے پہلا وضو اور آخری وضو کربلا پہ امام نے کیا ۔ گرم ریت کو جائے نماز بنایا ۔ سر مبارک کو اللہ کی رضا پر قربانی کی کامیابی کے تشکر کے لیے , سجدے میں رکھ دیا ۔ 
عبادت گذار کی ساری عمر کے سجدے ،  بہت مقبول سجدے ، خضوع و خشوع والے سجدے ، ریا سے خالی سجدے ، اطاعت کے احساس والے سجدے ،  کائنات میں کروڑوں ہیں جو ایسے سجدے کرتے ہیں ۔ مگر نہ فرش پہ اور نہ عرش پہ ایک بھی ایسا نہیں جس نے حسین ع کے کربلا والے سجدے جیسا سجدہ کیا ہو یا قیامت تک کر سکے ۔
سلام ہے اس معراج بندگی پہ ۔
دعا ہے ہر اس دل کیلئے  جس میں حب حسین ہے کہ سجدے کا ذوق اور شوق بھی ہر اس دل میں پیدا ہو جائے ۔ 
شکریہ
آزاد ھاشمی
2 اکتوبر 2016

No comments:

Post a Comment