Thursday, 21 June 2018

جنت میں شراب

" جنت میں شراب "
ایک محترم دوست نے ایک کلپ بھیجا ہے ۔ جس میں طارق جمیل صاحب نے جنت کی شراب کے تین درجے بیان کئے ہیں ۔ اور تینوں درجوں میں آیات کو بیان کیا ہے ۔ فرماتے ہیں کہ جنت میں جو شراب ملے گی ، پہلے درجے میں پینے والے خود جام در جام پئیں گے ، شراب کا عالم یہ ہوگا کہ اگر اسکا ایک قطرہ زمین پر گرے گا تو پوری جنت میں خوشبو پھیل جائے گی ۔ دوسرے درجے میں جنت کی " لڑکیاں " اور خادم جام پیش کریں گے اور تیسرے وی وی آئی پی درجے میں اللہ پاک خود شراب پیش کریں گے ۔ اور خود جام بھر بھر کر دیں گے ۔ جنت کی لڑکیوں کے حسن کی جو نقشہ کشی کی گئی ہے ، جس انداز سے عشوے اور حسن بیان کیا گیا ہے ، اسکی سادی سی وضاحت یہ ہے کہ انکا تھوک سمندر میں گر جائے گا تو سارے سمندر " شہد " بن جائینگے ۔
"الحفیظ الاماں "
محترم کو اتنی ساری خبریں کہاں سے ملیں ۔ یہ تو خبر نہیں ۔ بتانے والے نے " جنت میں لڑکیاں " بھی لا کر بٹھا دیں ۔ مگر یہ نہیں بتایا کہ جنت میں " شراب " نہیں ملے گی ۔ وہاں شراب کو " خمر " کہا جاتا ہے ۔ جنت کی زبان میں " شراب طہورا " پاک اور مطہر مشروب کو کہا گیا ہے ۔ شراب عربی زبان میں " مشروب " کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔
جنت میں " لڑکیوں " کو جو اصطلاع دی گئی ہے وہ " حور " ہے ۔ یا پھر " عورت " ہے ۔ اس انداز میں " حور " کا بھی ذکر نہیں ، جس انداز میں موصوف نے فرما دیا ۔ عورت کی یہ تصویر کشی " ذہنی جنسی ہیجان " کے سوا کچھ نہیں ۔ جنت کی عورت پاکبازی کی تصویر ہے ، شہوت کی بر انگیختی کا عنصر نہیں ۔ جب اس انداز سے کسی بھی شخص کے جنسی احساسات بیدار کر دئیے جائیں گے تو پھر ایسے " حسن کے حصول " کیخاطر ایک نوجوان کمر پہ بم باندھ کر بیگناہوں کی جان لے لے تو کونسا اچنبھا ہے ۔
یہ گمراہی ہے ، علم نہیں ۔ اگر کسی دوست کو مولانا کے یہ کلپ دیکھنے کا موقع ملے تو جس انداز سے وہ بیان فرماتے ہیں ۔ ایک ستر سال کا بڈھا بھی جنسی بھوک کا شکار ہو جائیگا ۔ صاحبان علم و فراست اس پر توجہ فرمائیں ۔
آزاد ھاشمی
٢١ جون ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment