Tuesday, 19 June 2018

موازنہ

" موازنہ "
پاکستان کی سیاسی بساط سے اسلام کا تصور رکھنے والی جماعتوں کا اخراج ہوتا نظر آ رہا ہے . وہ لوگ جن کا اسلام سے تعلق بہت مضبوط ہے . ان لوگوں میں سے جماعت کو بانوے ہزار ووٹروں میں پانچ ہزار ووٹ ملنا , جماعت کے اکابرین کیلئے لمحہ فکریہ ہے . اور اگر تمام رجسٹرڈ ووٹروں کے تناسب سے دیکھیں , تو تناسب شرمناک حد تک کم ہے .
دیکھنے اور سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر لوگ دین کی بات کرنے والوں پر بھروسہ کیوں نہیں کر رہے . وہ شخص , جس پر یہود نوازی کا الزام ہے , جسے گناہ کبیرہ کا مرتکب کہا جاتا ہے . لوگ اسے اس فقیر منش پر ترجیح کیوں دینے لگے ہیں . عمومی رائے یہ ہے کہ مذہبی جماعتوں نے صرف اسلام کی چھتری استعمال کر رکھی ہے . جبکہ انکا عمل وہی ہے جو دوسرے سیاستدانوں کا ہے . وہ بھی کرسی کے حصول کے لئے دوڑ رہے ہیں اور یہ بھی .
مگر میں نے اپنی کئی پوسٹوں میں لکھا ہے کہ جماعت کیلئے صرف ایک ہی راستہ باقی ہے کہ پورے خلوص سے اسلامی نظام کیلئے جدوجہد کا اعلان کر دیں اور جمہوریت کی سیڑھی کو چھوڑ دیں . جب بھی لکھا , جماعت سے منسلک نادان دوست ڈنڈے اٹھا لیتے ہیں . وہ یقین رکھتے ہیں کہ جماعت کے اکابر سے زیادہ سوجھ بوجھ کسے ہو گی . اسی زعم نے اس خفت سے دوچار کر دیا ہے . مگر اس  ہزیمت پر بھی عذر ڈھونڈھ لینا کمال کی ذہانت ہے یا کمال کی ہٹ دھرمی ہے . دوست پوچھتے ہیں کہ آخر میں ہر بار جماعت پر ایسے ترش الفاظ کیوں لکھتا ہوں . کچھ تو لبرل ہونے کا الزام بھی دے ڈالتے ہیں . اس تنقید کا ایک ہی سبب ہے کہ ابھی بھی چند کرنیں باقی ہیں , جن سے صرف جماعت قوم کو اسلامی نظام کیطرف لا سکتی ہے . مگر پتہ نہیں ان ذہین و فطین لوگوں کو کیا ہو گیا ہے . بد ترین شکست پر سوچنے کیطرف لوٹ ہی نہیں رہے . کہ اب وہ کریں جس کا ڈھنڈورہ پیٹتے ہیں . شاید اللہ نے ان سے یہ کام نہ لینے کا فیصلہ کر لیا ہے . شاید انکے اخلاص میں تڑپ کی بجائے " حب جمہوریت " نے گھر کر لیا ہے .
ازاد ھاشمی
26 اکتوبر 2017

No comments:

Post a Comment