Wednesday, 20 June 2018

اے رحیم و کریم ۔ دلوں کے حال جاننے والے


اے رحیم و کریم ۔ دلوں کے حال جاننے والے ۔
میں تیرا بندہ ۔ تیرے حبیب کی امت کا ایک حقیر سا فرد ۔
عقل و شعور کے باوجود حقوق عبودیت سے نظریں چراتا رہا۔ زندگی کے بکھیڑوں میں ایسا الجھا رہا کہ تیرے احکامات سے ھی بے خبر ھو گیا ۔ بالکل بھول گیا کہ اس فانی دنیا کی ھر لذت بھی فانی ھے ۔ تیرے سامنے ھاتھ پھیلانے کا سلیقہ بھی نہیں سیکھ سکا ۔ مانگنے کا طریقہ ہی نہیں آیا ۔ جب بھی مانگا دنیا ہی مانگی ۔
سجدہ بھی کیا تو کسی نہ کسی غرض سے کیا ۔ خطا پہ خطا کی ۔ گناھوں سے سکون تلاش کیا ۔سرکشی کو اپنا اعزاز سمجھا ۔
حقوق العباد بھی احسن طریقے سے ادا نہیں کر سکا۔ اب جب منزل کے بہت قریب ھوں تو خوف سے لرزتا ھوں کہ اگر تو نے عدل کر دیا تو میرا ٹھکانا کہاں ھو گا ۔ میرے لئے تو دعاء مغفرت بھی کوئی نہیں کرے گا ۔
پھر دل کو تسلی دے لیتا ھوں کہ تو رحیم کریم ھے ۔ رحمت و در گزر تیری شان ھے ۔ تو یقین کر لیتا ھوں کہ تو اپنی شان کے مطابق ھی کرے گا ۔ اور اپنے حبیب کی امت ھونے کے اس دعویدار کو ضرور معاف کرے گا ۔
میری ادھوری دعاؤں کو قبول فرمالے ۔آمین

No comments:

Post a Comment