" سیاست کا معمول اور حکم ربی"
سورہ الحجرات میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ۔
" اے ایمان والو ! بہت سے گمانوں سے بچو ، بعض گمان گناہ ہوتے ہیں ۔
اور کسی کی ٹوہ میں نہ لگو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو ۔ کیا تم میں سے کوئی پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے ۔ "
ایک مسلمان ہونے کے ناطے ، ہماری رہنمائی کیلئے قرآن کریم سے بہتر کوئی تعلیم نہیں اور اسوہ حسنہ سے بہتر کوئی رہنمائی نہیں ۔ نہ ہم نے قرآن کی تعلیمات کو زندگی میں شامل کیا اور نہ عملی راہنمائی کیلئے سرور کائنات کی زندگی کو مشعل راہ بنایا ۔ حکم ہے کہ بہت سارے گمانوں سے بچو ، بعض گمان گناہ ہوتے ہیں ۔ مگر یہ عمل ہماری زندگیوں کا لازم جزو بن گیا ہے ۔ ہم نے منفی سوچ کو اپنے طرز زندگی میں اسقدر شامل کر لیا ہے کہ ہر کسی پر بد گمان ہونے کیلئے ایک لمحے کیلئے بھی نہیں سوچتے ۔ اسی سے منسلک دوسرا عیب ، کہ کسی کی ٹوہ میں لگنا ہے ، ہم نے اسے بطور ہنر اور بطور خوبی اختیار کر لیا ہے ۔ ہم اپنے ہی ارد گرد تعلق داروں کی کمزوریوں اور برائیوں کی تلاش میں لگے رہتے ہیں ۔ ایسی کسی کمزوری کے مل جانے پر اسے پھیلانے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے ۔ ہماری باہمی خلفشار کا یہی سبب ہے ۔ جبکہ اس برائی کو اسقدر معیوب کہا گیا کہ جیسے کوئی شخص اسقدر بے حس ہو جائے کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے والا بن جائے ۔ بد گمانی ، کسی کی جاسوسی اور چغلی ، یہ تین عیب ، جن کا ذکر اس سختی کے ساتھ کیا گیا ہے ۔ یہ تینوں عیب ہمارے معاشرے کا حصہ بن چکے ہیں ۔ ان تینوں برائیوں کو اکٹھا کر لینے کو سیاست کی اساس سمجھا جاتا ہے ۔ اور جو شخص ان تینوں میں ماہر ہے وہ کامیاب سیاستدان ہے ۔ حد یہ ہے کہ اللہ نے معاشرت کا حسن ہم آہنگی کو دیا ۔ کسی عیب داری کی پردہ داری کو احسن کہا گیا ۔ ادھر ہم پردہ دری کی حد کر دی ۔ یہاں تک کہ بسا اوقات کئی کئی کہانیاں از خود گڑھ لی جاتی ہیں تاکہ مخالف کو شکست سے دوچار کیا جاسکے ۔
ہر مسلمان کے اوپر فرض ہے کہ اللہ کے حکم کی بلا کسی تحقیق کے عمل کرے ۔ یہی اطاعت ہے ۔
آزاد ھاشمی
١٨ جون ٢٠١٨
No comments:
Post a Comment