" انعامات ربی اور شکر "
مسجد کے ایک کونے میں بیٹھا ، اللہ کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھائے سسکیوں سے روئے جا رہا تھا ۔ وہ اس محلے میں کئی سال سے موسمی پھل بیچ رہا تھا ۔ اپنے کام میں مگن رہنا اسکا معمول تھا ۔ گم سم سی طبیعت ، سکوت اور ٹھہراو والی عادت سے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا چکا تھا ۔ بچے بوڑھے سب اسکے دوست تھے ۔
اسے اسقدر گڑگڑاتا دیکھ کر میں اسکے قریب ہو گیا ۔ وہ چند جملے بار بار دھرا رہا تھا ۔
" اے میرے پیارے اللہ ۔ مجھے معاف کر دے ۔ میں تیری بے شمار نعمتوں کا شکر نہیں کر پاتا ۔ میری اس خطا کو معاف کر دینا ۔ دنیا کے دھندھوں میں لگ جاتا ہوں اور تیری ذات کو بھول جاتا ہوں "
میں حیران بھی تھا اور پشیمان بھی ۔ اتنی سی بات پہ اتنی گریہ زاری ۔ کیا ہے اس بیچارے کے پاس ۔ پھل بیچتا ہے ، کبھی بک جاتے ہیں کبھی سڑ جاتے ہیں ۔ ایک چھوٹی سی کٹیا میں ٹوٹی ہوئی کھاٹ ۔ نہ پنکھا نہ فرج ۔ پھر بھی یہ کس نعمت کے شکر نہ کرنے پہ پشیمان ہے ۔ اس نے جیسے ہی دعا ختم کی ۔ مجھے دیکھا اور مسکرایا ۔
" اپنے اللہ کو راضی کر رہا تھا " وہ ایسے بول رہا تھا جیسے میں نے اسے اپنی چغلی کرتے پکڑ لیا ہو ۔ میں اپنی ہنسی روکنے کا جتن کر رہا تھا ۔
" محترم کس نعمت کا ذکر کر رہے تھے آپ اللہ پاک سے "
" بیٹا ! اللہ کی نعمتوں کا شمار پوچھ رہے ہو ۔ میں رات کو سویا تھا اور صبح پھر اٹھ گیا ۔ کیا یہ کم نعمت ہے ۔ سانس چل رہی ہے ، قدموں پر کھڑا ہوں ، پینے کو ملتا ہے ، جینے کو ملتا ہے ۔ کیا یہ نعمت نہیں ۔ بول سکتا ہوں ، سن سکتا ہوں ، دیکھ سکتا ہوں ، کیا یہ نعمتیں نہیں ۔ بیٹا غور تو کرو کہ اللہ نے انسان کو کس کس نعمت سے نواز رکھا ہے ۔ دولت ، گھر ، کار تو نعمتیں نہیں ، یہ تو انسان کے امتحان کے سامان ہیں ۔ اللہ دیتا ہے اور دیکھتا ہے کہ انسان اسے یاد بھی رکھتا ہے کہ نہیں ۔ یہ تو آزمائش ہے بیٹا "
بابا کی بات مجھے ندامت کی طرف دھکیل رہی تھی ۔ میں اپنی سوچ کو حماقت سمجھ رہا تھا ۔ میرے ہنسنے کی حس ختم ہو گئی اور فکر ہو گئی کہ میں کہاں کھڑا ہوں ۔ کبھی غور ہی نہیں کیا کہ نعمتیں کیا ہیں اور آزمائشیں کیا ۔
آنسووں سے بھیگی ہوئی داڑھی ، بھی ایک نعمت تھی ، جس میں اللہ کی رضا کا پانی تھا ۔ وہ مسکراتا ہوا چل دیا اور میں روتا ہوا کھڑا رہ گیا ۔
ازاد ہاشمی
20 مئی 2017
Tuesday, 19 June 2018
انعامات ربی اور شکر
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment