Tuesday, 19 June 2018

ایک ضروری بات

" ایک سوال "
"کیا ملکی خزانہ لوٹ کر باہر منتقل ہوجانے والوں کی تیسری نسل عیسائی یا لادین ہوجاتی ہے؟"
ایک چبھتا ہوا سوال اور فکر انگیز سوچ ۔ ہم نے ایک سوچ پر پختہ یقین کر رکھا ہے کہ ہر وہ شخص مسلمان ہے ، جس نے کلمہ پڑھ لیا ، جس نے  مسلمان گھر میں جنم لیا ۔ اور پختہ یقین کر رکھا ہے کہ امت محمدیہ ہونے کے ناطے سے شفاعت حبیب اللہ کے حقدار ہیں ۔ جو بھی کریں گے اللہ کی رحمت کی چادر ہمارے سروں پر رہے گی ۔ یہ سوچتے ہی نہیں کہ اللہ کے حبیب کی کونسی بات ہم نے مانی ۔ کونسا عمل اختیار کیا ۔  اللہ ستر ماوں سے زیادہ پیار کرتا ہے اپنے بندے سے ۔ مان لیا ۔ اور ایمان کا حصہ بنا لیا کہ بخشش پکی ہے ، جنت ہماری ہوئی ۔ یہ سوچنا چھوڑ دیا کہ جو رب مسلمانوں کا ہے وہی رب ہندو کا ہے ، یہودی کا ہے ، عیسائی کا ہے ، لا دین کا ہے ،  آتش پرست کا ہے ۔ پھر ہم سے منفرد سلوک کی کیا وجہ ۔
ایمان کو عملی زندگی کا حصہ بنائے بغیر کچھ نہیں ملے گا ، نہ رسول کی شفاعت نہ رب کا کرم ۔
وطن کی مٹی سے بےوفائی ایمان کا کھلم کھلا انکار ہے ۔ جو ملک کو لوٹتا ہے ، وہ حقوق العباد سے انحراف کرتا ہے ، وہ حکم ربی کا منکر ہے ، وہ اسوہ حسنہ کا منکر ہے ۔ ایسا ہر شخص لا دین ہے ۔
یہ تعلیم نہ عیسائیت کی ہے ، نہ یہودیت کی اور نہ کسی دوسرے مذہب کی ۔  بہت کم ایسے عیسائی  یہودی ، ہندو اور لادین ملیں گے جو اپنی دھرتی ، اپنی قوم اور اپنے ہم مذہب لوگوں سے غداری کا ارتکاب کرتے ہوں ۔ مسلمانوں میں ایسے لوگوں کی اکثریت کیوں ہے ۔ یہ ایک ایسا سوال ہے ، جسکا شاید یہی جواب ہے کہ ہم صرف نام کے مسلمان ہیں ۔ نہ اللہ کے احکامات کی پرواہ ہے نہ رسول سے کوئی انسیت ہے ۔
ملک لوٹنے میں جو لوگ ملوث ہیں صرف وہی مجرم نہیں ، جو انکا ہاتھ نہیں روکتے ، اور جو انکو منتخب کرتے ہیں وہ بھی اتنے ہی مجرم ہیں ۔ جس میں آپ بھی ہو سکتے ہیں اور میں بھی ۔
شکریہ
ازاد ہاشمی
30 جون 2017

No comments:

Post a Comment