Tuesday, 19 June 2018

کتے کو کتا ہی رہنے دو

" کتے کو کتا ہی رہنے دو "
ایک پوسٹ لگانے کی جسارت کی تھی " عمران خان کا کتا " .یہ کتا عمران خان اور بابر اعوان کی باہمی گفتگو میں ساتھ بیٹھا ہوا تھا ۔ معیوب لگا تو  چند سطریں تہذیب کے دائرے میں رہ کر لکھ  دیں ۔ تعجب ہوا جب عمران فوبیا کے اندھوں کو ناگوار لگا ۔
  بہت کم لوگوں کو علم ہو گا کہ سامراجی حکمران جب کسی نا پسندیدہ حکمران سے ملتے ہیں تو کتے کو عموماً ساتھ بٹھا لیتے ہیں ۔ یہ حرکت کبھی کسی پسندیدہ حکمرانوں کے لئے نہیں کرتے ۔ اس سے وہ کیا پیغام دینا چاہتے ہیں ۔ شاید سمجھ آگیا ہو گا ۔
  بابر اعوان کی جگہ اگر میں ہوتا تو کبھی در گزر نہ کرتا ۔
عجیب لگتا ہے ، جب یہی شخص سٹیج پر " ایاک نعبد و وایاک نستعین  " پڑھ کر آغاز کرتا ہے اور گھر میں پاکیزگی کا یہ عالم ہے کہ کتا ساتھ بٹھا رکھا ہے ۔ کیا یہ دو رخی نہیں ۔
مجھے عمران خان سے کوئی عناد نہیں ۔ کہنا صرف یہ تھا کہ قوم کی امیدوں سے اسطرح مت کھیلو ۔ یہاں بے شمار طاقتور مٹی چاٹنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔ اپنے لوگ ، جو سروں پہ بٹھاتے ہیں ، جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو یہی لوگ گلے میں رسی ڈال دیتے ہیں ۔ قذافی کو دیکھ لو ، صدام کو دیکھ لو ، اور بھٹو کے گلے میں بھی سلیوٹ کرنے والے نے پھندا کس دیا تھا ۔ نواز شریف کی رسوائی پہ انہی لوگوں نے دستخط کئے ہیں ، جو ہاتھ باندھے کھڑے رہتے تھے ۔ انکساری سیکھو اور کتے کو کتا ہی رہنے دو ۔ دانشور کتا مت بناو ۔ یہ جو آج عمران فوبیا کے بیمار ہیں ، کل یہی رسوائی کے ثبوت دیں گے ۔  ماضی کی رنگینیاں قابل سر زنش نہیں ، مگر سیاست اور خدمت کے میدان میں یہ بہت بڑا عیب ہے ۔ ایک ایک قدم پورا شعور مانگتا ہے ۔  خدا را اور کچھ نہیں تو اباو اجداد کی روایات ہی یاد رکھو ۔ 
ازاد ھاشمی
یکم اپریل 2017

No comments:

Post a Comment