" پارلیمنٹ کی شریعت "
ہم نے مذہب کو کھیل سمجھ لیا ہے ۔ اسلام کے کا اپنا دستور ، اپنی حدود ، اپنے قوانین اور اپنے اصول و ضوابط ہیں ۔ جو اللہ پاک نے اپنے حبیب صل اللہ علیہ وسلم کی پاک ہستی کے ذریعے ہم تک پہنچا دئے ۔ ان تشریعات کو کسی تبدیلی اور اصلاح کی ضرورت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ اسے عام انسان سوچنے اور فیصلے کرنے بیٹھ جائیں ۔ پارلیمنٹ جس میں شاید ہی کوئی ممبر اسلام کی طے کردہ حدود کے مطابق کردار کا حامل ہو ۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ ممبران اسمبلی میں فقہ ، شریعت ، اسلام کا فلسفہ اور احکامات ربی کو سمجھنے والے سوائے چند ممبران کے کوئی نہیں ۔ جو سمجھتے ہیں وہ بھی ترازو کے بھاری پلڑے پر بیٹھے نظر آتے ہیں ۔ اکثریت کو درست سمجھنے اور ماننے کا رحجان ہی اسلام کے منافی ہے ۔ تخلیق انسانیت سے آج تک بدکار ، گمراہ ، خائن ، ظالم اور غاصب ہمیشہ اکثریت میں ہوتے رہے ہیں ۔ کچھ ایسی ہی کیفیت ہماری اسمبلیوں کی ہے ۔ جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ۔ پھر ہم کیوں سوچ لیتے ہیں کہ شرعی معاملات میں انکے اخذ کردہ قوانین درست ہونگے ۔
یہ تو وہی قانون ساز اور دستور بنانے والے جہلاء ہیں ، جو توہین رسالت کو آزادی رائے کہہ دیتے ہیں ۔ کسی کے ایمان کا فیصلہ وہ کیسے کرے گا ، جو خود ایمان کا سرکش ہو ۔ دستور کی شق کو بنانا اور مٹانا اکثریت کی صوابدید تو بن سکتی ہے ، مگر ایمان کی رائے بنانا یا تبدیل کرنا ، قطعی طور پر پارلیمنٹ کا اختیار نہیں ہے ۔ ایران کی پارلیمنٹ میں اکثریت اہل تشیع کی ہے ، اگر وہ اہل سنت کو کافر قرار دے دیں تو اسلام کے ماننے والے کبھی تسلیم نہیں کریں گے کیونکہ یہ اللہ کا قانون نہیں ۔ انسان کا قانون ہے ۔ اسی طرح دنیا بھر کی مسلم پارلیمنٹ اسلامی حدود و قیود پر طبع آزمائی نہیں کرتیں ۔ پاکستان میں پارلیمنٹ کو پاکستان کے قوانین و دستور کو تبدیل کرنے کا اختیار تو سمجھ آتا ہے ، مگر اسلام کے اصولوں پر بل پیش کرنے اور پاس کرنے کا اختیار سمجھ سے بالا تر ہے ۔
ہم نے بحیثیت قوم جذبات کو مذہب کی راہ بنا لیا ، اب اسی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں ۔ کہ اسلام بھی سمجھ نہیں آ رہا اور جمہوریت بھی ۔
پارلیمنٹ کا بھی پتہ نہیں چلتا اور شریعت کا بھی ۔
ازاد ھاشمی
4 اکتوبر 2017
Tuesday, 19 June 2018
پارلیمنٹ کی شریعت
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment