" روزہ چور "
بازار کے چوراہے پر ایک ہجوم تھا . لوگ ایک خستہ حال شخص کو گھیرے کھڑے تھے . اس نے چند سوکھی روٹی کے ٹکڑے ھاتھ میں پکڑرکھے تھے . اپنے منہ کے پاس لے جاتا اور پھر واپس کر لیتا . لوگوں کیطرف دیکھ کر مسکراتا اور کبھی کہتا " روزہ کھول لوں " کبھی کہتا " روزہ پھر سے رکھ لوں "
بلا شبہ اسکی ذہنی حالت بہتر نہیں تھی . لوگ اسے دھتکار رہے تھے . کچھ کافر کہہ رہے تھے . کچھ روزہ چور , اور کچھ بہروپیہ سمجھ رہے تھے . کچھ کے نزدیک اسکی سزا . اسکی سخت پٹائی تھی , کچھ اسے پولیس کے حوالے کرنے پر تلے ہوئے تھے . ڈرامہ اپنے انجام کو پہنچ گیا . وہ زور سے زور سے رونے لگا . اور چیخ چیخ کر سب سے بول رہا تھا .
" یہ سوکھی روٹی , ایک خاندان کے لئے کافی نہیں . میں اس پر روزہ رکھ کھول لوں تو میرے بچے بھوک سے مر جائیں گے . میں نے کئی دنوں کا روزہ رکھا ہے , روٹیاں چراتا تھا , اب رمضان آگیا ہے . آپ لوگ عبادت کے لئے روزہ رکھے بیٹھے ہو . میں روٹی چرا نہیں پا رہا . میرا پورا گھر روزے سے ہے , پانچ سال کی بچی بھی روزے سے ہے , آج یہ روٹی خیرات میں ملی ہے , سوچتا ہوں اس سے پھر روزہ رکھ لیں , یا آج روزہ کھول لیں "
وہ رونے لگا .
" ہے کوئی جو یہ بتا دے کہ میرا روزہ بھی عبادت ہے یا فاقہ . تمہارے روزے تو عبادت ہیں . اللہ روز قبول کرتا ہے اسی لئے روز تمہارے دستر خوان سجا دیتا ہے . میرا روزہ قبول کیوں نہیں کرتا "
" کل میری بچی , پرسوں میری بیوی اور پھر میں اسی روزے میں مر گئے تو کیا ہم شہید ہونگے "
" تم روزہ چوروں کو معاشرے میں پسند نہیں کرتے تو فاقہ کشوں ...."
وہ روئے جا رہا تھا .
" کچھ کام کیوں نہیں کرتے ہٹے کٹے ہو " ہجوم میں سے آواز آئی . اور پھر کئی آوازیں پوچھ رہی تھیں . کئی القاب دئے جا رہے تھے . ہجوم بکھرنے لگا . پھر وہ اکیلا آسمان کیطرف منہ کئے کھڑا تھا . ہاتھ میں سوکھی روٹی لئے . روزہ داروں کی بستی میں , عبادت گزاروں کے نگر میں , افطاریوں کے لمبے لمبے دستر خوان بچھانے والوں کے بیچ .
کیا وہ روزہ چور تھا یا سب روزے دار فاقہ کش تھے
ازاد ھاشمی
30 مئی 2017
Tuesday, 19 June 2018
روزہ چور
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment