کرپشن کے سیلاب کے بعد ہم سب یہ تو یقین کر چکے ہیں کہ ہمارے لیڈر قوم اور وطن سے مخلص نہیں - اور یہ بھی سوچ رہے ہیں کہ کیا کریں -
ہمارے سامنے اپنے مستقبل کے لئے دو راستے ہیں - ایک جمہوریت اور دوسرا اسلام - جمہوریت کا ثمر ہم نے بہت اچھی طرح سے سیر ہو کر کھا لیا - 66 فیصد لوگ اس نظام سے اکتا کر ایک کونے میں چھپ چکے ہیں , انہیں انتخابات کے جھنجھٹ سے کوئی واسطہ نہیں رہا - باقی لوگ دھونس دھاندلی سے از خود حکمران بن کر بیٹھ جاتے ہیں - اور اپنی من مانی سے حکومت کے امور کو چلاتے رہتے ہیں - کوئی آواز اٹھاتا ہے تو ووٹوں کی اکثریت سے خاموش کر دیا جاتا ہے - یہ جمہوریت ہے کہ آج اگر لبرل , اسلام مخالف , مغرب زدہ چاہیں تو جو بھی قانون پاس کرنا ہو , کر سکتے ہیں - اور اب اہستہ آہستہ اسطرف تحریک ہونے بھی لگی ہے -
اب دوسرا نظام ہے اسلام - جس کے لئے یہ خطہ حاصل کیا گیا - جس کے قوائد و ضوابط مستحکم بھی ہیں اور قطعی طور پر ہر کسی کو راہ عمل کا مکمل درس بھی دیتے ہیں - جس سے بھلائی ہی بھلائی ہے - جس سے کرپشن کا مکمل خاتمہ ہو جاتا ہے - جو معیشت کے بہترین اصول رکھتا ہے - جس میں ہر انسان کو بنیادی حقوق کی ضمانت دی جاتی ہے - جس میں وقت کا کوئی بھی صاحب اقتدار اپنی من مانی نہیں کر سکتا - جس میں احتساب کا بہترین نظام ہے - جس میں عدل و انصاف کی ضمانت ہے -
جس کے نفاذ کے بعد کسی انتخاب کی ضرورت نہیں اور قوم کا اربوں روپیہ ہر پانچ سال بعد ضائع ہونے سے بچے گا - کروڑوں روپے کے ماہانہ اخراجات , جو حکمران عیاشیوں میں خرچ کرتے ہیں , بچیں گے -
حکمران خادم ہوں گے اور حقیقی طور پر خدمت کرنا انکی کی ڈیوٹی ہو گی -
اسکے دو فائدے ہوں گے , عوام خوشحال ہو گی
اور الله کا فضل ساتھ ہو گا -
اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے , کہ ہم کونسا نظام چاہتے ہیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی
11 اپریل 2016
Monday, 18 June 2018
جمہوریت کے ثمرات
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment