" سیاسی خیرات "
پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس بچے ، کانپتے ہاتھوں والے کمر خمیدہ بوڑھے ، گرد اٹے بالوں والی خواتین کا ایک جم غفیر جمع تھا ۔ سب کی نظریں سڑک پر تھیں ۔ ایک گرد اڑاتی کار لوگوں کے ہجوم سے گزرتی ایک طرف رک گئی۔ کلف لگے کپڑے پہنے ایک نوجوان گاڑی سے اترا ، سب کیطرف ہاتھ ہلایا اور آٹے ، گھی اور دیگر اشیاء کے ڈھیر کیطرف بڑھ گیا ۔ اب ایک ایک ضرورت مند کو پروگرام کے تحت سامان دیتا اور ہر خیرات کیمرے میں محفوظ ہو جاتی ۔ رمضان کا مہینہ ، برکتوں کا مہینہ ، بخششوں کے دن اور رحمتیں لوٹنے کے دنوں ، سخاوت اور خیرات کے یہ تماشے اکثر ہوتے ہیں ۔ یہ تماشے عام طور پر کرنے والے یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اپنی ساری خطاوں کا حساب برابر کردیا ۔ یہ تماشا دیکھنے والوں میں ، ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ بوڑھا شخص بھی تھا ۔ وہ ایک کونے میں بیٹھا ، دیکھ بھی رہا تھا اور مسلسل کچھ بول بھی رہا تھا ۔ جب کھیل ختم ہوا تو وہ اٹھا اور سخاوت کرنے والے کے پاس آکر کھڑا ہوا ۔ نوجوان بولا ۔
" بابا جی ! آپ نے دیر کردی ۔ اب سب کچھ ختم ہو گیا ، کل دوسرے محلے کی باری ہے ، کل وہاں آجانا "
بوڑھا سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا ۔
" کوئی بات نہیں ۔ تیرے پاس تو سب ختم ہوگیا ۔ اسلئے میرے نصیب میں کچھ نہیں آیا ۔ ایک بات تو بتاو بابو ؟ یہ سخاوت کس لئے کر رہے ہو ؟ گھر میں برکت کیلئے ، کسی بیمار کی صحت کیلئے یا الیکشن میں امیدوار ہو ؟ "
غریب بوڑھے کے سوال نے " سخی " کو پریشان کر دیا
" بابو ! یہ بھوکے ننگے کیا دعا دیں گے ۔ اور اگر دیں گے بھی ، تو اللہ انکی کب سنتا ہے ۔ اگر سنتا تو یہ بھیک تھوڑی مانگ رہے ہوتے ۔ انکو تو انسانوں سے مانگنے کی عادت ہے ۔ اور انسانوں سے مانگنے والے ہمیشہ بھوکے ہی رہتے ہیں ۔ یہ تو روز راستہ دیکھتے رہتے ہیں کہ کوئی خیرات دینے والا آئے ۔ انکی اللہ نہیں سنتا بابو "
" تم پیسے والے ہو ۔ پیسہ بانٹتے نہیں ہو ، رب سے تجارت کرتے ہو ۔ خیرات نہیں کرتے ہو اللہ سے کاروبار کرتے ہو ۔ اللہ اپنے وعدے کا پکا ہے ، تم نے دیا وہ نفع کے ساتھ لوٹا دے گا ۔ تمہارا تو فائدہ ہو ہی جائے گا ۔ مگر تم نے ان بد نصیب احمقوں کو یقین دلا دیا کہ وہ اللہ سے نہ بھی مانگیں گے تو انہیں انسانوں سے مل ہی جائے گا ۔ تم نے انہیں ایمان اور توکل سے محروم کر دیا ہے بابو "
بوڑھے کی فکر میں جو گہرائی تھی ، وہ شاید بابو کو سمجھ نہیں آ رہی تھی ۔ اسکے چہرے کی ناگواری سے ظاہر ہو رہا تھا کہ بہت مشکل میں پڑ گیا ہے ۔
" بابو ! ان قسمت گزیدہ لوگوں کو یہ خیرات نہ بھی ملتی تو یہ سب پھر بھی بھوکے نہیں سوتے ۔ اللہ نے انکے رزق کی ذمہ داری اٹھا رکھی ہے ۔ دیکھو ! تمہارے پاس میرے لئے کچھ باقی نہیں بچا ۔ میں مانگنے نہیں آیا تھا ۔ تماشا دیکھنے آیا تھا ۔ میرے نصیب کا رزق مجھے روز ملتا ہے اور روز ملتا رہے گا ۔ تم میری فکر مت کرو ۔ اپنی عاقبت کی فکر کرو ۔ یہ سب اللہ کے بندے ہیں اور اللہ ان سے بہت محبت کرتا ہے ۔ تم انہیں انسانوں سے مانگنے کی عادت ڈال رہے ہو ۔ انسانوں سے مانگنے والے ہاتھ پھیلے ہی رہتے ہیں ۔ جھولی اسی کی بھرتی ہے جو اللہ سے مانگتا ہے ۔ "
" اگر خیرات کرنا مقصود ہے ، تو اسطرح بانٹو کہ دوسرے ہاتھ کو خبر نہ ہو ۔ اشتہار مت لگاتے پھرو ۔ ایک کام کرو نوجوان ! تم اپنے گوداموں میں ذخیرہ اناج کو کم منافع پر بیچنا شروع کر دو ۔ مہنگائی کی کمر توڑ دو تو یہ سب دو وقت کی روٹی مزدوری کر کے بھی کما لیں گے "
بابا جی بولے جا رہے تھے ۔ لوگ سن کر محظوظ ہو رہے تھے کہ عمر کی طوالت نے اس کے حواس چھین لئے ہیں ۔
" بابو جی ! آپ ثواب کماتے رہیں ۔ یہ چریا ہو گیا ہے "
مجمعے سے آواز آئی ۔ بابا جی نے مڑ کر دیکھا
" شکریہ بیٹا " کہا اور دوسری سمت چلنے لگا ۔
آزاد ھاشمی
١٣ جون ٢٠١٨
Wednesday, 13 June 2018
سیاسی خیرات
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment