" ٹیکس یا زکواة "
ہمارے ریاضی دان , معیشت کے ماھرین ، بڑے بڑے مفکر اور دانشور ، مذہب کی چھتری تلے بیٹھے علماء ، سیاست کے گرو اور حکمرانی کے فلاسفر آج تک یہ نہیں سمجھ پائے کہ معاشی بد حالی کی وجوہ کیا ہیں اور انکا حل کیا ہے -
افلاس دنیا کے ان ملکوں سے بھی ختم نہیں ھوئی جو ترقی کے آخری زینہ پر بیٹھے ھیں -
مقروض وھاں بھی ھیں ، جہاں وسائل کی بہتات ہے -
مہنگائی کا احساس اور بڑھتا ہوا رحجان ہر خطے میں موجود ہے۔ اسکی وجہ ٹیکس کا مروجہ نظام اور سود کی شرح یے . پاکستان میں اسوقت ہر شہری ٹیکس ادا کرتا ہے ، ایک ہی شے پہ کئی بار ٹیکس لاگو ہوتا ہے ، جس سے اشیاء کی قیمتیں بڑھ جاتی ھیں . قیمتوں کا یہ فرق ، ایک تو ھمیں بین الاقوامی مارکیٹ سے نکال رھا ھے اور دوسرا قومی سطح پر عام شہری بری طرح سے متاثر ھے۔ سمجھایا یہ جاتا ہے کہ ٹیکس کا بوجھ ، سرمایہ دار اور صنعتکار کی جیب سے جاتا ھے۔ جبکہ یہ سارا بوجھ قیمت کی شکل میں عام شہری ادا کرتا ہے ۔ تخمینہ کے مطابق ، جو چیز سو روپے کی ہونی چاہئے ، وہ دو سے اڑھائی سو کی ہو جاتی ہے ۔
اگر زکوٰة کا نظام لاگو ، یا خمس یا عشر کو لاگو کر دیا جائے تو سو روپے کی شے ، ایک سو پانچ یا ایک سو دس کی ھو جائے گی۔ یہی وہ گر ہے جس کی بنیاد پہ چین پوری دنیا کو سستے داموں ہر ضرورت کی چیز فراہم کر رھا ہے ۔
ستر فیصد تک ٹیکس کی وصولی کے باوجود ھم اپنی ضروریات پوری کیوں نہیں کر پاتے ، اسکی بہت ساری وجوہ میں ایک تو یہ ہے کہ نظام مبہم ہے ، دوسری وجہ بد دیانت ادارے اور افسران ہیں ۔ اگر زکوٰة کا نظام لاگو کر دیا جائے تو چند گھرانوں سے اتنی دولت آجائے گی ، جتنی پوری قوم سے نہیں آ پاتی ۔ اسکا بوجھ نہ تو مصنوعات پر ہو گا ، نہ عام شہری پر اور نہ ہی ارتکاز دولت کی ہوس فروغ پائے گی۔
تعجب یہ ہے کہ ھمارے مذہبی سکالر کیوں توجہ نہیں دلاتے۔
اسکی مثال یوں بھی لی جا سکتی ھے کہ موجودہ ٹیکس نظام میں نواز شریف ، عمران خان ، فضل الرحمن ، زرداری وغیرہ کتنا ٹیکس دیتے ہیں ، اگر ان تمام پر زکوٰة کا نظام لاگو کر دیں تو انکو کتنا دینا پڑے گا ۔
قوم کو سوچنا ہو گا اور اس پر تحریک کی ضرورت ہے۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
24 اگست 2016
Sunday, 10 June 2018
ٹیکس یا زکوٰة
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment