Tuesday, 12 June 2018

میرے اعمال اور تیری رحمتیں

" میرے اعمال اور تیری رحمتیں "
الحمدوللہ ، تیری رحمتوں سے بھرپور ماہ مبارک ہم سب کو نصیب ہوا ۔ جس جس کو تیری ذات نے توفیق بخشی ، اس اس نے اپنے اپنے مقدور کے مطابق تیری رحمتیں سمیٹ لیں ۔ مجھ جیسے کمزور اور ناتواں بھی تیری توفیق سے اپنے اعمال کا پلڑا بھاری کرنے کی سعی کرتے رہے ۔ تیری قبولیت ڈھونڈھنے کے سارے جتن کئے ۔ معمولات زندگی میں تغیر بھی لائے ۔ بھوک میں بھی ایک نوالہ حلق سے نیچے نہیں اتارا ۔ پیاس لگی تو پانی کا ایک گھونٹ بھی نہیں پیا ۔ ایمان تھا کہ اپنی اصلاح کا موقع ملا ہے ، پھر کون جانے زندگی وفا کرے کہ نہ کرے ، کیوں نہ تیرے احسانات سے جھولی بھر لی جائے ۔ جھولی تنگی کا خیال کئے بغیر تیری رحمتوں کی وسعت پر نظر جمائے رکھی ۔ یہ سوچ کر کہ تیری ذات ہر سال مجھ جیسے سرکش کو بھی یہ مبارک ایام نصیب کر دیتی ہے کہ اپنی غلاظتیں دھو لیں ۔  اپنی لغزشوں ، کوتاہیوں اور غفلتوں کا ازالہ کر لیں ۔
اس سے انکار بھی ممکن نہیں ، کہ ہم نے کھانے پینے سے تو ہاتھ روکے رکھا ، کہ تیرا حکم تھا ، مگر گاہے بگاہے شیطان کے دہوکے میں بھی آتے رہے ۔ دکھاوا بھی کرتے رہے ، نظریں بھی بہکتی رہیں ، جھوٹ بھی بولنا پڑا ، ترازو کے پلڑے بھی جھولتے رہے ، چغلی کی عادت بھی نہیں چھوٹی ، غریب کی غربت کا احساس بھی پیدا نہیں ہوا ، راگ  و رنگ بھی ساتھ ہی رہا ، امراء اور تعلق داروں کیلئے دستر خوان تو سجتے رہے ، مستحقین سے نظریں بچائے رکھیں ، زکوٰة میں بھی جھول برقرار رہا ۔ گویا ہم عملی طور پر وہی رہے جو تھے ۔ 
تیرے کرم کی آس کل بھی تھی ، آج بھی ہے ۔ غفلتوں سے چھٹکارے کی طلب باقی ہے ۔ دل میں یوم حساب کا خوف رہتا تھا اب بھی ہے ۔ بخششوں اور عطاوں کی رات کب آئے گی اور کب گذر جائے گی ، کوئی خبر نہیں ۔ بس ایک دعا سن لے ، اسے قبول فرما لے تو مجھ جیسے کتنے فلاح پا لیں گے کہ ہمارے اعمال کو دیکھے بغیر ، ہماری اطاعت کو تولے بغیر ، ہمارے روزوں کی حقیقت کو ترازو پہ رکھے بغیر ، ہمیں اپنی رحمتوں سے محروم نہ کرنا ۔ وہ عطا فرما دے جو تیرے پیاروں کو نصیب ہوتا ہے ۔ ہمارے دلوں کا رخ اپنی اور اپنے پیاروں کی محبت کیطرف پھیر دے ۔ تو کریم ہے رحیم ہے ۔ ہم پر رحم فرما ، رحم فرما ، رحم فرما ۔ آمین
آزاد ھاشمی
١٢ جون ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment