اس وقت پورا میڈیا , پوری قوم ایک چھوٹو کے انجام پہ نظریں جماۓ بیٹھی ہے - آج نہیں تو کل وہ پکڑا جایگا یا مارا جایگا - اپنی نسلوں کو ایک گناہ کی سزا بگھتنے کے لئے چھوڑ جایگا - بیٹیاں سہاگ نہیں پا سکیں گی - بیٹے اپنی پہچان چھپاتے پھریں گے - ہو سکتا ہے غیرتمند دیہاتی اسکے خاندان کو گاؤں سے ہی نکال دیں - ہر چھوٹو کا یہی انجام ہوتا ہے - ایک غریب ہاری کو چھوٹو بنانے والوں کا نہ حساب ہو گا نہ احتساب ہو گا - وہ پھر ایک چھوٹو تسخیر کر لیں گے - جو وڈیروں , سرداروں , جاگیر داروں , اور سیاستدانوں کے لئے تاوان , ووٹ اور ناموری چھینتا پھرے گا -
مجرم مار دینے سے کبھی جرم ختم نہیں ہوتا , وہ جڑ کاٹنے کی ضرورت ہوتی ہے , جس کی وجہ سے مجرم بنتے ہیں - مگر ایسا کبھی نہیں ہوتا - اب بھی نہیں ہو گا - کیونکہ اس جڑ سے سیاستدانوں , پولیس اور بڑے بڑے نام والوں کے مفادات وابستہ ہیں -
شاید وہ مسیحا ابھی پیدا ہی نہیں ہوا جو یہ جڑ کاٹنے کا قصد کرے - ہم بحثیت قوم ہر سنجیدہ معاملے پہ مصلحت کا شکار ہو جاتے ہیں , اور غیر اہم معاملات پر طوفان کھڑا کر دیتے ہیں -
غلام رسول چھوٹو بنتا رہا اور تحفظ کے ذمہ دار تماشا دیکھتے رہے - جب تک وہ دس بیس لوگوں کو قتل کرنے کے قابل نہیں ہوا , کوئی بھی زمہدار حرکت میں نہیں آیا - اسے مجرمانہ غفلت کہیں گے , یا اس مجرم کا خوف , یا اسکے ساتھ معاشی حصہ داری -
اگر وہ زندہ پکڑا گیا تو کون ہے جو اسکی سنے گا - کس نے سنی عزیر بلوچ کی , کس نے سنی صولت مرزا کی -
یہ مجرم ماں کی گود میں جرم نہیں سیکھتے , ان کو جرم سکھانے والے ہاتھ ہوتے ہیں - مضبوط ہاتھ - جن سے قانون بھی ڈرتا ہے اور قانون نافذ کرنے والے بھی - جب تک قانون کی حفاظت کرنے والے مصلحت نہیں چھوڑیں گے - یہ سب یوں ہی چلتا رہے گا -
آزاد ہاشمی
16 اپریل 2016
Sunday, 10 June 2018
چھوٹو
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment