" ماں اور عید کے نئے کپڑے "
میرے پوچھنے پر کہ بابا نے اپنے لئے عید پہ کیسا لباس بنایا ۔ بابا چریا اپنی کہانی سنا رہا تھا ۔
" مجھے وہ دن کبھی نہیں بھولے جب میرے دیانتدار باپ ( اللہ اپنی خاص رحمتوں میں جگہ نصیب کرے ۔ آمین ) ہمیں وسائل کی انحطاط میں چھوڑ کر چلے گئے ۔ چھوٹے چھوٹے بہنوں اور بھائی کے سارے خوابوں کی تعبیر میری ذمہ داری بن گئی ۔ عید ایک ایسا تہوار ہے جس پر نئے کپڑے بچوں کی اولین خواہش ہو جاتی ہے ۔ اس کے بعد کئی سال تک مجھے کبھی عید پر نئے کپڑے پہننے کا شوق نہیں ہوا ۔ میں اپنے پرانے کپڑوں میں خوش تھا کیونکہ مجھے اپنی بہنوں اور بھائی کے نئے کپڑے عزیز تھے ۔ کچھ بھی ہو انکے لباس ، خورد و نوش اور تعلیم میں کبھی احساس نہیں ہونے دیا کہ ہم پر غربت نے اپنا پنجہ گاڑھ رکھا ہے ۔ اللہ غریق رحمت کرے میری عظیم ماں کو ، جس نے کبھی میرا حوصلہ نہیں ٹوٹنے دیا ۔ میرے قدموں کی ساری استقامت میری ماں تھی ۔ مجھے کبھی احساس ہی نہیں ہوا کہ میں ضرورتوں کی دلدل میں پھنسا ہوں ۔ ہمارے گھر کے ٹوٹے پھوٹے آنگن میں ہر وقت مسکراہٹیں اور سکون کے ڈیرے تھے ۔ عید پر پرانے کپڑے پہننے کی میری عادت کئی سال تک چلتی رہی ۔ پھر مجھے اسوقت پتہ چلتا جب عید کی نماز سے پہلے مجھے نیا لباس پہننے کا حکم ہوتا ۔ میری ماں نے میرا لباس بھی نیا بنانا شروع کر دیا ۔ زندگی یونہی گذر گئی ۔ اب اللہ نے ماں کو اپنے پاس بلا لیا ۔ پھر سے نہ کوئی میرے لئے نئے کپڑے خریدتا ہے اور نہ پہننے کو دل کرتا ہے ۔ جب بھی عید پر کسی بچے کو پرانے کپڑوں میں دیکھتا ہوں تو سمجھ جاتا ہوں کہ اس کی بھی ماں مر گئی ہو گی ۔ یا جب یہ گھر سے اس لباس میں نکلا ہو گا تو اسے دیکھ کر ایک بار ضرور مری ہوگئی ۔ نہ جانے ، جب میں عید پر پرانے کپڑوں میں عید پڑھنے جایا کرتا تھا تو میری ماں کتنی بار مری ہو گی اور مجھے خبر بھی نہیں ہوتی تھی "
بابا چریا کی آنکھیں بھیگ چکی تھیں ۔
" اب یار ! کیسے کپڑے اور کیسی عید ۔ اب پرانے کپڑوں میں دیکھ کر کونسا ماں مرے گی ۔ ماں جی چلی گئیں ، بس سارے شوق بھی چلے گئے "
بابا جی رو رہے تھے
آزاد ھاشمی
١١ جون ٢٠١٨
Monday, 11 June 2018
ماں اور عید کے نئے کپڑے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment