Wednesday, 13 June 2018

نہیں جاوں گا عید پڑھنے

" نہیں جاوں گا عید پڑھنے "
بچہ ماں کے حکم کی تعمیل پر جز بز بھی تھا اور روتی آنکھوں سے عید پڑھنے کے فرض سے انکاری بھی ۔
" بیٹا ! ہر سال اپنے باپ کی انگلی پکڑ کر تو شوق سے جایا کرتا تھا ۔ آج نہیں جائیگا تو تیرا بابا کیا سوچے گا "
ماں کی آنکھیں بھی بھیگ گئیں ۔ بچے نے بھی زور زور سے رونا شروع کردیا ۔ ماں کے سینے سے چمٹتے ہوئے بولا ۔
" ماں جی کیوں روتی ہو ۔ چلا جاتا ہوں " 
یہ کہہ کر اس نے ٹوپی سر پہ رکھی اور برستی آنکھوں سے چل پڑا ۔
" بیٹا ! کیا ہوا ، عید کی نماز پر جانے سے اللہ خوش ہوتا ہے ۔ "
میں نے اسکے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
" روزے رکھے تھے تم نے "
میں نے پوچھا
" نہیں "
اس نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا
" کیوں "
میرا دوسرا سوال اسکے رکتے ہوئے آنسووں میں پھر سے تیزی لے آیا ۔
" پچھلے سال عید کی نماز کے دوران بم دھماکہ ہوا تھا ۔ میرے ابا شہید ہوگئے تھے ۔ اسکے بعد ہم نے کبھی دو وقت کھانا نہیں کھایا ۔ میری ماں سحری کھائے بغیر روزہ رکھ لیتی ہے ، مجھ سے نہیں رکھا جاتا ۔ ورکشاپ جاتا ہوں ، کام سیکھنے ۔ گرمی بھی ہوتی ہے ، بھوک بھی لگتی ہے پیاس بھی ۔ اسلئے روزہ نہیں رکھتا ہوں "
بچے کی اس مختصر سی بات میں ، حالات کی پوری تصویر میرے سامنے تھی ۔ ایک سال سے یہ مختصر سا خاندان ایک وقت کی روکھی سوکھی روٹی پر گذارہ کر رہا تھا ۔ اس معاشرے میں جہاں دین اور مذہب سکھانے والوں کی اکثریت ہے ۔ جہاں کے مذہبی ماحول کا یہ عالم ہے کہ اذان پر ہر چھوٹا بڑا مسجد کیطرف بھاگ کھڑا ہوتا ہے ۔ جہاں خیرات کی دیگیں چڑھتی رہتی ہیں ۔ جہاں مساجد میں ثواب کی خاطر محفلیں سجتی رہتی ہیں ۔ انہی مذہبی لوگوں کے درمیان ایک گھر ایسا بھی ہے کہ جہاں چولہا بھی شاذ ہی جلتا ہو گا ۔ عید گاہ کیطرف بڑھتے ہوئے ، میرے قدم بھی بوجھل ہوتے جارہے تھے ۔ ذہن چاہ رہا تھا کہ ایسے لوگوں کے ساتھ کیا نماز پڑھوں گا جو اپنے اہم فرض سے اتنے غافل ہیں ۔ میں بچے سے بہت سارے سوال کرنا چاہ رہا تھا ۔ پوچھنا چاہتا تھا کہ آپ لوگوں نے گھر میں کیا پکایا ہے ، نئے کپڑے کیوں نہیں پہنے وغیرہ وغیرہ ۔
" عید پڑھنے سے انکار کیوں کر رہے تھے "
سوال کرنے کی بری عادت کے باعث میں نے پوچھ لیا ۔
" یہ سارے انکل مجھے عیدی کی بجائے فطرانہ دیں گے ۔ مجھے اچھا نہیں لگتا کہ خیرات لیکر گھر واپس لوٹوں ۔ جس جس بچے کے کپڑے پھٹے پرانے ہوتے ہیں ، اسے سب فطرانہ دیتے ہیں عیدی نہیں "
بچے کی بات نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ۔ میرا بھی تو پوری زندگی کا یہی معمول تھا ۔ میں بھی تو یہی کرتا رہا ۔
عیدی تو ہر بچے کا حق ہوتا ہے ۔ اپنا ہو یا پرایا ۔ ہم تو اسی بچے کو عیدی دیتے ہیں جس سے کوئی تعلق ہو ۔ ہم نے تو غریب بچوں سے تعلق ہی توڑ رکھا ہے ۔ ہم خیرات ، زکوِٰة ،  صدقہ  اور فطرانہ ہی انکے ہاتھوں پہ رکھتے ہیں ۔ ہم تو ہر غریب عورت کو نہ بہن سمجھتے ہیں ، نہ بیٹی ، نہ ماں ۔ کبھی خیال ہی نہیں آیا کہ کسی بیوہ کے گھر بہن سمجھ کر عیدی ہی بھیج دیں ۔ اپنی عبادتوں کو بے وزن سمجھ رہا تھا ۔ خوف زدہ تھا کہ میں نے تو جو بھی روزے رکھے تھے ، جتنی بھی نمازیں پڑھی تھیں ، اسی بے خبری میں  ہی پڑھی ہیں ۔ روز محشر اگر اللہ نے ساری حقوق العباد کی غفلت کے سبب میرے منہ پہ مار دیں تو کیا کروں گا ۔ سوچتے سوچتے میری حالت غیر تھی ۔
" کیا ہوا انکل ۔ آپ کیوں رو رہے ہیں "
مجھے خبر بھی نہیں تھی کہ میری آنکھیں میری ندامت کے آنسو نہیں سنبھال پا رھیں ۔
ایک فیصلہ تھا ، جو میں کر چکا تھا کہ اب کبھی اکیلے عید نہیں کروں گا ۔ اب ان کے ساتھ ہی عید کروں گا جن کو فراموش کئے بیٹھا تھا ۔
آزاد ھاشمی
١٣ جون ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment